اسرائیل کا دفاع برقرار رکھنا مشکل، امریکی سرزمین کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے: امریکی جنرل

واشنگٹن (واشنگٹن پوسٹ، خبر ایجنسیاں)امریکی یورپی کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گرینکیوِچ نے خبردار کیا ہے کہ بحریہ کے جنگی جہازوں (ڈسٹرائرز) کی شدید کمی کے باعث اسرائیل کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کا موجودہ آپریشن برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جنرل گرینکیوِچ نے پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ اگر مزید ایک ڈسٹرائر فراہم نہ کیا گیا تو انہیں اسرائیل کے بجائے امریکی سرزمین کے دفاع کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ امریکی یورپی کمانڈ کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران کے ساتھ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے باعث امریکی دفاعی وسائل، خصوصاً میزائل دفاعی نظام اور بحری جنگی جہاز، شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس وقت بحیرۂ روم اور مشرقِ وسطیٰ میں متعدد امریکی ڈسٹرائرز اور دیگر جنگی جہاز تعینات ہیں، تاہم مسلسل کارروائیوں کے باعث ان کی دیکھ بھال اور مرمت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی دفاعی جائزوں کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں سے اسرائیل کے دفاع کا بڑا بوجھ امریکی افواج نے اٹھایا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا کے جدید دفاعی ہتھیاروں اور میزائل ذخائر پر بھی نمایاں دباؤ پڑا ہے۔