واشنگٹن/تہران (ایجنسیاں) امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان پر سو میزائلوں سے حملہ کیا، جس میں 254 افراد ہلاک ہو گئے اور صورتِ حال شدید کشیدگی کا شکار ہو گئی۔
اس کے جواب میں ایران نے بھی میزائل حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا، جس کے بعد امریکی صدر کے سامنے تین بڑے آپشنز رہ گئے ہیں: جنگ دوبارہ شروع کرنا، سفارتکاری کو آگے بڑھانا، یا اسرائیلی وزیرِاعظم کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل ہونا چاہیےجبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔امریکی صدر نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں بیروت پر حملوں کو علیحدہ جھڑپ قرار دیا اور کہا کہ حزب اللّٰہ کی موجودگی کے باعث لبنان کو جنگ بندی میں شامل نہیں کیا گیا، تاہم عندیہ دیا کہ اس معاملے کو بھی حل کر لیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے کہا کہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کرنے اور لبنان میں حزب اللّٰہ کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
ٹرمپ کے تین مشکل راستے”جنگ کی طرف واپسی”
اگر امریکا دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کرے تو ایران کی جانب سے شدید ردعمل متوقع ہے، خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، توانائی کا بحران شدت اختیار کرے گا اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ امریکی داخلی سیاست پر بھی اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل۔
“سفارتکاری”
دوسرا راستہ سفارتکاری کو مضبوط بنانا ہے۔ امریکی نائب صدر اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرینگےلیکن اگر اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھتا ہے تو دیرپا امن معاہدہ حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ امریکا کو دو محاذوں پر کام کرنا ہوگا: ایک طرف سفارتی کوششیں اور دوسری طرف اسرائیلی وزیرِاعظم سے بات چیت۔ ایران کی جانب سے امریکی افواج کے انخلاء پابندیوں کے خاتمے اور دیگر مطالبات بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
“اسرائیل پر دباؤ ڈالنا”
تیسرا آپشن اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ پیچھے ہٹے اور ایران یقین کرے کہ امریکا واقعی دیرپا امن کیلئے سنجیدہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سب سے کم امکان والا راستہ ہے کیونکہ اسرائیل پہلے ہی لبنان کو علیحدہ محاذ قرار دے چکا ہے۔

