چکوال:سی سی ڈی کی فائرنگ، آسٹریلوی پاکستانی خاندان کی 9 سالہ بچی جاں بحق

چکوال (نمائندگان)پنجاب کے ضلع چکوال میں سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے آسٹریلیا سے پاکستان آنے والے ایک خاندان کی 9 سالہ بچی جاں بحق جبکہ اس کے والد اور بھائی شدید زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد ملک اور بیرونِ ملک پاکستانی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

جاں بحق ہونے والی بچی کی شناخت 9 سالہ ہانیہ عدیل کے نام سے ہوئی ہے، جو آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں مقیم پاکستانی نژاد خاندان کی رکن اور آسٹریلوی شہری تھی۔پولیس اور اہلِ خانہ کے مطابق ہانیہ کے والد عدیل، والدہ ڈاکٹر سدرا اور بچوں کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد پاکستان آئے تھے۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب خاندان رات کے وقت ایک رشتہ دار کے گھر عشائیے میں شرکت کیلئے جا رہا تھا۔ چکوال میں سی سی ڈی تھانے کے قریب موٹرسائیکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر نقدی اور زیورات چھین لئے۔

رپورٹ کے مطابق اسی دوران سی سی ڈی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور مبینہ ڈاکوؤں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ صورتحال سے خوفزدہ ہو کر عدیل نے اپنی گاڑی وہاں سے نکالنے کی کوشش کی، تاہم سی سی ڈی اہلکاروں نے تیز رفتاری سے جاتی گاڑی کو مبینہ طور پر ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی متعدد گولیوں کا نشانہ بنی اور 9 سالہ ہانیہ شدید زخمی ہوگئی۔ اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

ہانیہ کے والد عدیل اور بھائی افان بھی گولیوں سے زخمی ہوئے۔ دونوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد راولپنڈی کے ایک خصوصی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے جبکہ والدہ ڈاکٹر سدرا محفوظ رہیں۔

ہانیہ کے غمزدہ دادا نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی معصوم پوتی کا کسی جرم سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ محض ایک بچی تھی جو بدانتظامی اور لاپرواہی کا شکار بن گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

چکوال میں سی سی ڈی اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے 9 سال کی بچی ہلاکت کے واقعے کے بعد تفتیشی ٹیم نے بچی کے زخمی والد کا بیان بھی قلمبند کرلیا۔ذرائع کے مطابق والد کا بیان خصوصی تفتیشی ٹیم نے بینظیر بھٹو اسپتال میں قلم بند کیا جبکہ فائرنگ کرنیوالے اہلکار کا تھانہ سی سی ڈی میں حاضری ریکارڈ بھی چیک کیا گیا ہے۔

جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول فرانزک ٹیسٹ کیلئے لیب بھجوا دیے گئے ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ متاثرہ خاندان سے ڈکیتی کرنے والے دونوں ڈاکو مبینہ مقابلہ میں ہلاک ہوگئے، ڈاکوؤں کی شناخت محمد فیاض اور محمد عباس کے نام سے ہوئی۔ہلاک ڈاکو ریکارڈ یافتہ، پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھے، ڈاکو بچی کےجاں بحق ہونے کے اگلے دن پولیس مقابلہ میں ہلاک ہوئے۔