واشنگٹن/اسلام آباد/تہران (رائٹرز، بین الاقوامی میڈیا، ایکس رپورٹس)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے تاحال اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔‘‘ انہوں نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کیلئےکھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری ختم کرنے کی منظوری دینے کا بھی اعلان کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونیوالے مذاکرات کے نتیجے میں دونوں ممالک تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے پر متفق ہو گئے ہیں، جبکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے۔
وزیراعظم کے مطابق ثالثی کرنے والے ممالک کی نگرانی میں مزید ملاقاتیں ہوں گی جن میں معاہدے پر عمل درآمد کے تکنیکی امور اور آئندہ جامع مذاکرات کی تیاری کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت حتمی امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک ابتدائی فریم ورک ہے، جس کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جامع معاہدے پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور خطے میں طویل المدتی امن کی بنیاد رکھنے سے متعلق نکات شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
ادھر ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مجوزہ حتمی معاہدے کے تحت امریکا اس بات پر آمادہ ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر ہی انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم افزودہ کر سکے گا، جس کے طریقہ کار پر آئندہ مذاکرات میں اتفاق کیا جائیگا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان کی ثالثی اور پس پردہ سفارتی کوششوں کے باعث معاہدے کی امیدیں بڑھ گئی تھیں جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ روز عندیہ دیا تھا کہ معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔
تاہم ایرانی حکام نے آخری وقت تک محتاط رویہ اختیار کیے رکھا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ مفاہمتی یادداشت پر اتوار کے روز دستخط نہیں ہوں گے اور دستخط کی حتمی تاریخ کے بارے میں ابھی انتظار کرنا ہوگا۔
اسی دوران لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تازہ جھڑپوں نے بھی اس سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کیا، تاہم ثالثی کرنیوالے ممالک مذاکرات کو کامیاب بنانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم ایران کی جانب سے معاہدے کی باضابطہ سرکاری توثیق یا مشترکہ اعلامیہ تاحال جاری نہیں کیا گیا اس لیے اس پیش رفت کو متعلقہ فریقین کے بیانات اور میڈیا رپورٹس کی روشنی میں ہی دیکھا جا رہا ہے۔

