البرٹا علیحدگی ریفرنڈم کا سوال خطرناک چال ہے: مارک کارنی

اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے البرٹا میں علیحدگی سے متعلق ممکنہ ریفرنڈم کے سوال کو خطرناک چال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے نتائج قابو سے باہر ہو سکتے ہیں، جیسا کہ برطانیہ میں بریگزٹ کے معاملے میں ہوا۔

اوٹاوا کے نواحی علاقے میں سستے رہائشی منصوبے کے اعلان کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ البرٹا کی وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ ہمیشہ ان کا مشورہ نہیں مانتیں۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے بنیادی سوالات اٹھانا ملک کے لیے مفید نہیں، جبکہ البرٹا کی حکمران جماعت کے انتخابی منشور میں بھی اس معاملے کا ذکر موجود نہیں تھا۔

مارک کارنی نے کہا کہ برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے ریفرنڈم کے دوران انہوں نے خود دیکھا کہ کس طرح عوام ایسے فیصلے کے نتائج پوری طرح سمجھے بغیر ووٹ دے بیٹھتے ہیں اور بعد میں ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1995ء کے کیوبک ریفرنڈم کا پیچیدہ سوال بھی اس بات کی مثال ہے کہ اس قسم کے ریفرنڈمز میں عوامی رائے مختلف انداز میں سمجھی جا سکتی ہے۔البرٹا حکومت کی جانب سے مجوزہ سوال یہ رکھا گیا ہے کہ آیا البرٹا کینیڈا کا صوبہ برقرار رہے یا پھر آئینی طریقۂ کار کے تحت علیحدگی پر لازمی ریفرنڈم کرانے کیلئےقانونی عمل شروع کیا جائے۔

مارک کارنی نے کہا کہ وفاقی حکومت اس سوال کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ وضاحت قانون کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق اگر سوال واضح نہ ہوا تو اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کریگی۔وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ وہ کینیڈا کی وحدت کے حق میں بھرپور مہم چلائیں گے کیونکہ ملک متحد رہ کر زیادہ مضبوط اور خوشحال ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے مارک کارنی کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ البرٹا کے عوام کا ہے، اوٹاوا کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کی وفاقی پالیسیوں نے البرٹا کے عوام میں بے چینی پیدا کی ہے، تاہم وہ خود بھی البرٹا کے کینیڈا میں رہنے کے حق میں مہم چلائیں گی۔