تہران(ایرانی میڈیا، پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ امور، وائٹ ہاؤس)ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی و خارجہ امور کے رکن فدا حسین مالکی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور امریکا نے بیشتر ایرانی تجاویز تسلیم کر لی ہیں۔
تہران میں جاری بیان میں فدا حسین مالکی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تازہ بات چیت مثبت رہی اور متعدد اہم معاملات پر پیشرفت سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ایران کو اصل تشویش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وعدوں پر عملدرآمد سے متعلق ہے، کیونکہ ان کے بقول ماضی قریب میں اس حوالے سے کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔
فدا حسین مالکی کے مطابق مذاکرات کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان بعض اہم امور پر اتفاقِ رائے پیدا ہوا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع سے متعلق معاہدہ طے پا گیا ہے اور ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے، جبکہ اس پر دستخط جنگ کے آغاز کے بعد سب سے اہم سفارتی پیشرفت تصور کیے جا رہے ہیں۔

