واشنگٹن / اوٹاوا ( غیر ملکی میڈیا)امریکا نے کینیڈا سے درآمد کیے جانے والے تازہ مشرومز پر اضافی درآمدی محصولات عائد کر دیے ہیں، جس کے تحت بیشتر کینیڈین پیداوار پر 2.84 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
امریکی محکمہ تجارت کی تحقیقات کے بعد یہ اقدام کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ کینیڈین مشروم پیدا کرنے والوں کو حکومتی سبسڈی اور ٹیکس سہولتوں کے ذریعے غیر منصفانہ فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق دو کمپنیوں پر الگ شرح سے محصولات عائد کیے گئے ہیں، جن میں چیمپس فریش فارمز پر 1.62 فیصد جبکہ فارمرز فریش مشرومز پر 4.97 فیصد ڈیوٹی مقرر کی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق رواں ماہ کے آخر میں ان مصنوعات پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بھی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب کینیڈین صنعت نے امریکی تحقیقات کو “گمراہ کن” اور “غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقامی کاشتکار کسی غیر قانونی تجارتی سرگرمی میں ملوث نہیں اور انہیں کوئی خصوصی رعایت حاصل نہیں۔
کینیڈا کی مشروم صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ جن ٹیکس سہولتوں کو سبسڈی قرار دیا جا رہا ہے وہ زرعی شعبے میں عمومی طور پر دستیاب ہیں اور امریکا میں بھی اسی نوعیت کی سہولتیں موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق کینیڈا امریکا میکسیکو تجارتی معاہدے کے تحت کینیڈین صنعت ان محصولات کے خلاف اپیل بھی دائر کر سکتی ہے۔

