اونٹاریو لبرل پارٹی کا او ایس اے پی فنڈز میں بے ضابطگیوں پر وزیر نولن کوئن سےاستعفے کا مطالبہ

کوئینز پارک (نمائندہ خصوصی) اونٹاریو لبرل پارٹی کے عبوری رہنما جان فریزر نے نجی پیشہ ورانہ کالجوں کو طلبہ کی مالی معاونت کے پروگرام کے تحت کروڑوں ڈالر کی ادائیگیوں اور صوبائی حکومت کی مبینہ بدانتظامی پر وزیر نولن کوئن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔

جان فریزر نے کہا کہ وزیر کوئن نے صوبے کے اعلیٰ تعلیم کے نظام کی نگرانی کے لیے درکار اعتماد کھو دیا ہے اور انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت کو اس معاملے پر پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا، لیکن اس نے بروقت کارروائی نہیں کی اور اب انکشافات سامنے آنے کے بعد اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آڈٹ کے دوران تیار کی جانے والی تمام دستاویزات عوام کے سامنے جاری کی جائیں۔

اونٹاریو لبرل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی اور کالجوں و جامعات کے امور کے ترجمان ٹائلر واٹ نے کہا کہ نجی پیشہ ورانہ کالجوں کو طلبہ کی مالی معاونت کے پروگرام کے تحت بھاری رقوم کی منتقلی کے انکشاف کے بعد صوبائی حکومت فوری ردعمل دینے کی کوشش کررہی ہے، تاہم وزیر کوئن کے بیان سے کئی نئے سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

ٹائلر واٹ کے مطابق 25-2024کے دوران اونٹاریو حکومت کی جانب سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی گرانٹس نجی پیشہ ورانہ کالجوں میں زیرتعلیم طلبہ کو دی گئیں۔ ان میں سے صرف سات اداروں کو 38 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ملے، جو صوبے کے تمام 24 سرکاری کالجوں کو دی جانے والی مجموعی رقم کے برابر تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب طلبہ کی مالی معاونت کے پروگرام کے تحت گرانٹس کے اخراجات میں ایک سال کے دوران 46 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا تو اس اضافی رقم کے ہر ڈالر میں سے 95 سینٹ نجی پیشہ ورانہ کالجوں کے طلبہ کو دیے گئے۔

لبرل رہنما کے مطابق عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ وزارت کو جنوری 2023 میں ہی اس معاملے پر خبردار کردیا گیا تھا، لیکن مخصوص اداروں کے معائنے جولائی 2025 میں شروع ہوئے، بیرونی آڈیٹر رواں سال اگست میں مقرر کیا گیا اور صوبائی آڈیٹر جنرل کو گزشتہ ہفتے اس معاملے سے آگاہ کیا گیا۔

ٹائلر واٹ نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے مسئلے کو بڑھنے دیا اور اس دوران طلبہ کو مالی معاملات میں غیرذمہ داری کا ذمہ دار ٹھہرایا، حالانکہ ان کے بقول اصل مسئلہ حکومتی غفلت اور مالی بدانتظامی تھا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ معاملہ اونٹاریو صوبائی پولیس کے حوالے کب کیا گیا، کیا حکومت نے باقاعدہ فوجداری تحقیقات کی درخواست کی اور کیا ایسی کوئی تحقیقات جاری ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا پولیس کو معاملہ بھیجنے کا مقصد عوامی سوالات کے جواب دینے سے گریز کرنا تو نہیں، خصوصاً جب اس معاملے میں اخلاقی ضابطوں اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات بھی سامنے آسکتے ہیں۔

ٹائلر واٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ کی حکومت نے تمام نجی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو او ایس اے پی ادائیگیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ان اداروں کے طلبہ بھی متاثر ہوسکتے ہیں جنہوں نے قواعد کی پابندی کی۔ ان کے مطابق متاثرہ طلبہ کو نجی قرض دہندگان سے مالی مدد لینے کا کہا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ نے او ایس اے پی پروگرام کی بدانتظامی نہیں کی بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری تھی۔ ان کے بقول اونٹاریو لبرل پارٹی اس معاملے کو اٹھاتی رہے گی تاکہ طلبہ اور ٹیکس دہندگان کو مطلوبہ جوابات مل سکیں۔