نوبل امن انعام 2026ء جنوبی افریقا کی قانون دان ناوانیتھم ناوی پلے کے نام

اوسلو (نوبیل کمیٹی، رائٹرز) ناروے کی نوبیل کمیٹی نے 2026ء کا نوبیل امن انعام جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی قانون دان ناوانیتھم ’’ناوی‘‘ پلے کو دینے کا اعلان کردیا۔ انہیں امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے نے بین الاقوامی قانونی نظام کو مضبوط بنانے اور جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات میں انصاف کی فراہمی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے ناوی پلے کو نوبیل امن انعام ملنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر کی ترجمان شابیا مانٹو نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناوی پلے انسانی حقوق کی پُرعزم محافظ اور علم بردار رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے لیے مزید لگن اور عزم کی ضرورت ہے۔

ناوی پلے اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہ چکی ہیں۔ انہوں نے جنوبی افریقا میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کا دفاع کیا اور روانڈا میں نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کرنے والے بین الاقوامی ٹریبونل میں بھی جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج بھی رہ چکی ہیں۔

رواں ہفتے ادب، کیمیا، طبیعیات اور طب کے نوبیل انعامات کے اعلان کے بعد امن کا انعام اس ہفتے اعلان کردہ پانچواں نوبیل انعام ہے۔گزشتہ سال وینزویلا کی حزب اختلاف کی رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے نوبیل امن انعام حاصل کیا تھا۔