عمران خان جیل میں زرداری کا ریکارڈ بھی توڑ سکتے ہیں:بلاول بھٹو

کراچی (نمائندہ خصوصی+وقائع نگارخصوصی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف نے انتہا پسندی کی سیاست ترک نہ کی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں رہنے کا سابق صدر آصف علی زرداری کا ریکارڈ بھی توڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آئے اور وفاقی حکومت سے مذاکرات کرے تاکہ سیاسی حالات بہتر ہوسکیں۔

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتہا پسندی کی سیاست سے سب سے زیادہ نقصان خود پی ٹی آئی کو ہورہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی رہنما جیل جانے کے بعد دوبارہ اقتدار میں آئے، لیکن اس کے لیے سیاسی طرزِ عمل میں تبدیلی ضروری ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے فیصلوں کے باعث اپنے حامیوں کو مایوس کررہی ہے۔ اگر جماعت نے محاذ آرائی کا راستہ ترک نہ کیا تو خیبر پختونخوا میں بھی اس کا حکومتی کردار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر منفی سیاست کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ وفاقی حکومت کچھ عرصہ قبل خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے تیار تھی، تاہم ان کی جماعت کے نزدیک گورنر راج آخری آئینی راستہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آکر وفاقی حکومت سے بات چیت کرنی چاہیے۔ ان کے بقول، مسلسل محاذ آرائی سے نہ صرف جماعت کی سیاسی مشکلات بڑھیں گی بلکہ اس کے کارکن بھی مایوس ہوں گے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ جن لوگوں کو ماضی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا ایجنٹ قرار دیا جاتا تھا، کیا کراچی دوبارہ ان کے حوالے کرنا ہے؟ انہوں نے ایم کیو ایم کی سیاسی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔

سندھ میں نئے صوبے کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مصطفیٰ کمال اور محسن نقوی سندھ کے مختلف شہروں میں جاکر عوام سے پوچھیں کہ آیا وہ الگ صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں عوام کی خواہش اور متعلقہ اسمبلی کی حمایت ہو، وہاں نئے صوبے کے قیام پر غور کیا جاسکتا ہے، لیکن جہاں عوام ایسا نہ چاہتے ہوں وہاں نئے صوبے نہیں بننے چاہییں۔

بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی انتخابی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1988ء اور 1990ء کے انتخابات میں ان کی جماعت کو ووٹ ملے، لیکن حکومت کے حصول میں مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے 1993ء اور 2008ء کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ادوار میں بھی پیپلز پارٹی کو پنجاب میں حکومت حاصل نہیں ہوسکی۔