ایران، امریکہ جنگ کے اثرات!

حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو پٹرول کے نرخ348روپے50پیسے سے بھی زائد ہیں کہ پٹرولیم کمپنیوں کا اپنا اپنا سلسلہ ہے آج شب جب3ستمبر،4ستمبر میں تبدیل ہو گی تو یقینا نرخ مزید بڑھیںگے اور آج(جمعہ) پیٹرول لینے والوں کو350 روپے سے زائد بوجھ اٹھانا ہو گا۔ دلچسپ امر ہے کہ اوگرا اب تک قریباً30روپے فی لیٹر کا اضافہ کر چکی ہے لیکن عوام کا احساس مختلف ہے یہ فارمولا حکمرانوں کے کام آ رہا ہے اور یوں احساس ہوتا ہے کہ کسی ایسے ماہر فن کی تجویز پر فیصلہ ہوا ہے جو یا تو باٹا کمپنی میں ملازمت کر چکا یا پھر متاثر ہے کہ باٹا ریٹ اسی لئے مشہور تھے کہ روپوں کے بعد99 پیسے رکھے جاتے اور یوں اگلے ایک روپے کا احساس ختم ہو جاتا، اب یہی سب قوم کے ساتھ ہو رہا ہے کہ روزانہ 60، 70پیسے اور روپیہ دو روپے بڑھائے جاتے ہیں یوں اضافے کا احساس دم توڑ دیتاہے ویسے ہمارے باشعور عوام کا یہ تجزیہ ہے کہ حکومت کی طرف سے یہی سب کچھ کرتے کرتے پٹرولیم چار سو روپے فی لیٹر اور ڈیزل کم از کم سوا چار سو روپے فی لیٹر ہو جائے گا اور یہ تمام بوجھ براہ راست عوام پر پڑے گا کہ پہلے ہی مہنگائی تھم نہیں رہی۔ مارکیٹ میں پیاز اور ٹماٹروں کی کوئی کمی نہیں جس کا مطلب یہ کہ رسد برقرار ہے لیکن نرخ ہر روز بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہی صورت حال دیگر سبزیوں، فروٹ اور اشیاءضرورت کی ہے، ایک تنخواہ دار سفید پوش کے مطابق ہر رزو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کی آمدنی کم ہو جاتی ہے کہ ان کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔یوں فکس انکم گروپ بوجھ تلے دبتا چلا جا رہا ہے۔

قارئین! مہنگائی اور نرخوںمیں اضافے کے لئے عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ایران،امریکہ جنگی کشمکش کے باعث عالمی سطح پر قیمتیں بڑھتی ہیں تو پٹرولیم درآمد کرنے والا ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان بھی متاثر ہوتا ہے جہاں تک ایران،امریکہ جنگ کا تعلق ہے تو پاکستان کی دوست ممالک سے تعاون کے ساتھ کوشش کامیاب نہیں ہو پا رہی، حالانکہ سخت جنگ کے دوران ہی پاکستان کی ثالثی کوشش بار آور ہوئی تھی اور جنگ بندی ہو گئی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مکمل فتح نہ ہونے کی خفت مٹانے کے لئے لڑائی ختم نہیںہونے دے رہے۔ وہ خود تو وینزویلا کی معدنی دولت(تیل) پر مکمل کنٹرول حاصل کر لینے کے حوالے سے مطمئن ہیں اور امریکہ میںنرخ کم کرنے کے دعویدار ہیں لیکن آبناءہرمز پر تنازعہ کھڑا کرنے اور ایران کی ناکہ بندی کے علاوہ بار بار حملے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں،اس سے عالمی سطح پر نرخ بڑھ گئے ہیں اور یہی عذر پٹرولیم درآمد کرنے والے ممالک کے حکمرانوں کا ہے کہ نرخ بڑھانا مجبوری ہے۔

دو روز قبل ایک ضروری کام سے رائیونڈ سے بھی پرے کینسر کیئر ہسپتال جانے کا موقع ملا، ہسپتال کے بانی اور معمار پروفیسر ڈاکٹر شہریار خان سے ملاقات ہوئی۔میں ان کا اس وقت سے ممنون ہوں جب وہ میو ہسپتال اونکالوجی شعبہ کے سربراہ تھے اور میری اہلیہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ ہسپتال کی کارکردگی اور جاری تعمیراتی کام دیکھ کر خوشی ہوئی کہ محنت بار آور ہو رہی ہے، میں نے بھی اپنے ایک مرحوم چچا کے ایصال ثواب کے لئے خدمت کی۔ یہ ذکر یوں ہوا ہے کہ ہسپتال سے تھوڑا پہلے سڑک کے درمیان اونچا ایک بڑابورڈ لگا دیکھا اس پر تحریر پڑھ کر خود اپنے بزرگ یاد آ گئے۔اس تحریر کے مطابق حدیث مبارکہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ان کے بعد قیامت سے قبل30ایسے دجال آئیں گے جو عالم ِ انسانیت کو پریشان کریںگے۔مجھے قلعہ الموت والے حسن بن صباح، مہدی سوڈانی اور کئی ایرانی یاد آ گئے یہ سب ایسے حضرات تھے جو پڑھ لکھ کر گمراہ ہوئے اور خود کو مہدی یا بنی کہلوایا اور نبی کا دعویٰ کرنے والے دو تین حضرات نے تو قتل و غارت بھی کی۔

اِس وقت مشرق وسطیٰ میںامریکی مداخلت اور صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کے ایماءپر موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پرجنگ مسلط کر کے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لئے نہ صرف معاشی خطرات پیدا کئے بلکہ بڑھا دیئے ہیں، پاکستان کی معیشت تو یوں بھی قرضوں کے سہارے چل رہی ہے۔ حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا کر ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے یہ اثرات عام شہریوں تک نہیں پہنچ رہے بلکہ وہ روز بروز بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں اور ہمارا موقف ہے کہ یہ سب ایران، امریکہ جنگ کے باعث ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلط کرا رکھی ہے۔امریکی سینیٹر سنیڈز نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو مطلق العنان بادشاہ کی طرح عمل نہیں کرنا چاہئے وہ امریکی صدر ہیں، تو قارئین! کیا حدیث کی روشنی میں ہم فرض کر لیں کہ یہ30میں سے ایک ہیں۔