برسبین(آسٹریلوی میڈیا، خبر ایجنسیاں)ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی دو سابق کھلاڑی، فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ، باضابطہ طور پر آسٹریلیا کی شہری بن گئی ہیں۔ دونوں نے رواں سال ایرانی حکومت پر تنقید کی تھی۔
22 سالہ فاطمہ پسندیدہ اور 34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ نے ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلیا کے وزیرِ امیگریشن ٹونی برک کے ہاتھوں شہریت کا حلف اٹھایا۔ اس تقریب میں ان کے دوستوں اور برسبین میں مقیم ایرانی برادری کے افراد نے بھی شرکت کی۔
عاطفہ رمضانی زادہ نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا یادگار اور ناقابلِ فراموش لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا نے انہیں نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیا، تاہم ان کی ایرانی شناخت ہمیشہ ان کی شخصیت کا حصہ رہے گی۔
فاطمہ پسندیدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ان کی زندگی کے خوش نصیب ترین دنوں میں سے ایک ہے اور کئی ماہ کی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے بعد یہ لمحہ ان کیلئے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔
دونوں کھلاڑی ان سات ایرانی فٹبالرز میں شامل تھیں جنہیں رواں سال مارچ میں ویمنز ایشین کپ کے دوران آسٹریلیا میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے دیے گئے تھے، تاہم دیگر پانچ کھلاڑی بعد ازاں اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ایران واپس چلی گئی تھیں۔
یہ شہریت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب آسٹریلوی حکومت ہجرت میں کمی لانے کیلئےویزا قوانین مزید سخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مجوزہ قوانین کے تحت پناہ کے متلاشی افراد کے کام کرنے اور اپیل کے حقوق محدود کیے جانے جبکہ وزٹ ویزا پر موجود افراد کیلئےفیملی ویزا درخواستوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
دونوں کھلاڑیاں اس وقت آسٹریلیا کی اے لیگ ویمنز کلب برسبین روار کے ساتھ تربیت حاصل کر رہی ہیں اور آسٹریلیا میں اپنے پیشہ ورانہ فٹبال کیریئر کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

