مسی ساگا:ہمیشہ سےفلسطین کی سو فیصد حامی ہوں: کیرولین پیرش

مسی ساگا(اشرف خان لودھی سے)مسی ساگا کی میئر اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں دوبارہ میئر کے عہدے کی امیدوار کیرولین پیرش نے کہا ہے کہ اگر عوام نے انہیں مزید چار سال کا موقع دیا تو وہ پراپرٹی ٹیکس میں کمی، سستی رہائش، نوجوانوں اور بزرگوں کی فلاح، شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سٹی سینٹر کی ازسرِ نو ترقی کے منصوبوں کو مکمل کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں ان کی ٹیم نے شہر میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب بھی کئی بڑے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیرولین پیرش نے کہا کہ کوئی بھی شخص اکیلے کچھ حاصل نہیں کر سکتا، کامیابی ہمیشہ ایک مضبوط ٹیم کے ساتھ مل کر کام کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ارکان، ڈپٹی میئرز، کونسلرز اور تقریب کے میزبان بلجیت ، چوہدری جاویدگجر،مرزانسیم بیگ،حفیظ خان سمیت تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی مشترکہ کوششوں سے شہر میں اہم منصوبے مکمل کیے جا سکے۔

اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کیرولین پیرش نے کہا کہ انہوں نے لبرل پارٹی کے ٹکٹ پر سابق وزیر اعظم جین کریٹین کے ساتھ 13 برس کام کیا اور اس دوران پانچ مرتبہ مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فلسطین کی سو فیصد حامی ہیں اور انہوں نے کینیڈا اور مشرقِ وسطیٰ دونوں جگہ فلسطینیوں کیلئے بہت کام کیا۔ ان کے بقول جین کریٹین، مارک کارنی اور ڈگ فورڈ اعتدال پسند رہنما ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کی قیادت میں ملک درست سمت میں آگے بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران بزرگ شہریوں کو کمیونٹی سینٹروں میں مفت داخلہ، مفت پبلک ٹرانزٹ اور موسمِ سرما میں ڈرائیو ویز کے سامنے جمع ہونے والی برف کی صفائی جیسی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ان کے مطابق ایک لاکھ 23 ہزار ڈرائیو ویز اور چار ہزار کلومیٹر سے زائد فٹ پاتھ صاف کیے گئے تاکہ شہری محفوظ طریقے سے آمدورفت کر سکیں۔

کیرولین پیرش نے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح بھی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وارڈ 5 میں قائم یوتھ سینٹر سے چار ہزار سے زائد نوجوان وابستہ ہیں جبکہ روزانہ تقریباً 400 ایسے بچوں کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے جو ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے بغیر اسکول جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہاں موجود تدریسی باورچی خانے میں نوجوان ایک دوسرے کیلئے کھانا تیار کرتے ہیں اور اسی وجہ سے علاقے میں معمولی جرائم تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 21 ملین ڈالر کی لاگت سے دوسرا یوتھ سینٹر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ تیسرے مرکز کی منصوبہ بندی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حلف اٹھانے کے ایک ہفتے بعد شہر کے بڑے ڈویلپرز پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کی گئی تاکہ رہائشی بحران پر قابو پایا جا سکے۔ ان کے مطابق صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے رہائشی منصوبوں کیلئے بڑی مالی معاونت حاصل ہو رہی ہے اور اس بارے میں اعلان اگست کے آخر میں متوقع ہے۔

میئر نے پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے کہا کہ مقامی سطح پر ٹیکس میں صرف 1.6 فیصد اضافہ کیا گیا، تاہم ریجنل اخراجات بالخصوص پولیس سروسز بورڈ کے باعث شہریوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسی ساگا پولیس کے اخراجات کا 62 فیصد برداشت کرتا ہے جبکہ برامپٹن صرف 38 فیصد ادا کرتا ہے حالانکہ پولیس خدمات سے زیادہ فائدہ برامپٹن اٹھاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وہ اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ سے ملاقات کر چکی ہیں۔ ان کے بقول جب انہوں نے برامپٹن کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 399 ملین ڈالر سبسڈی دینے کے اعداد و شمار پیش کیے تو پریمیئر نے اسے غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے اس مسئلے کے حل کا وعدہ کیا۔ کیرولین پیرش نے کہا کہ ان کی تجویز ہے کہ یہ مالی بوجھ مرحلہ وار منتقل کیا جائے تاکہ برامپٹن پر یکدم اضافی ٹیکس عائد نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ ریجنل نظام کو ایک ساتھ ختم کرنے کے بجائے مرحلہ وار اختیارات الگ کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت 2027 سے مسی ساگا، برامپٹن اور کیلڈن اپنی اپنی سڑکوں کی ذمہ داری خود سنبھالیں گے جس سے مسی ساگاکو سالانہ 30 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ اسی طرح سالڈ ویسٹ کلیکشن کا نظام بھی ریجن سے واپس لے لیا گیا ہے جس سے مزید تقریباً 20 ملین ڈالر کی بچت متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس سروسز بورڈ کے اعداد و شمار سے بھی واضح ہوا ہے کہ برامپٹن پولیس خدمات کا 50 فیصد سے زیادہ استعمال کرتا ہے جبکہ ادائیگی صرف 38 فیصد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام شواہد صوبائی حکومت کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ مالیاتی نظام میں انصاف قائم کیا جا سکے۔

کیرولین پیرش نے کہا کہ شہر کے موجودہ لونگ آرٹس سینٹر کی عمارت انتہائی خستہ حال ہو چکی ہے، اس کی چھتیں ٹپک رہی ہیں، نشستیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اسے دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کیلئے120 ملین ڈالر درکار ہیں۔ اسلئےموجودہ عمارت کے ساتھ نئی جدید عمارت تعمیر کی جائیگی جبکہ پرانی عمارت کی جگہ کانفرنس سینٹر بنایا جائیگا۔

انہوں نے بتایا کہ دو بڑے ہوٹل گروپس ڈاؤن ٹاؤن میں آٹھ منزلہ ہوٹل تعمیر کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایک ڈویلپر کے ساتھ لینڈ سویپ کے تحت اپارٹمنٹ منصوبہ بھی بنایا جائے گا۔ اس منصوبے میں 40 رہائشی یونٹس انڈویل کے ذریعے صرف 300 ڈالر ماہانہ کرائے پر فراہم کیے جائیں گے تاکہ موسیقی کے طلبہ وہاں رہائش اختیار کر سکیں۔

میئر نے کہا کہ اس وقت سیاحت سے شہر کو سالانہ تقریباً ڈھائی ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جس کے باعث شہریوں کو تقریباً 1100 ڈالر فی پراپرٹی ٹیکس کی بچت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق نئے منصوبوں کی تکمیل کے بعد سیاحتی آمدنی دوگنا ہونے کی توقع ہے اور اسی آمدنی کو شہری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سابق میئر مستعفی نہ ہوتے تو وہ کبھی میئر کے انتخاب میں حصہ نہ لیتیں، تاہم اب بھی ان کے پاس شہر کی ترقی کیلئے بہت سے منصوبے موجود ہیں اور وہ انہیں مکمل کرنا چاہتی ہیں۔تقریر کے اختتام پر کیرولین پیرش نے اپنی ٹیم، دوستوں، رضاکاروں اور شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے منصوبے مکمل کرنے کیلئے مزید چار سال درکار ہیں۔شرکاء نے “فور مور ایئرز، فور مور ایئرز” کے نعرے بھی لگائے۔