ایران اور امریکا ڈیل کے قریب، اسرائیل بھی خوش:ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن/فلوریڈا (امریکی میڈیا رپورٹس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیل کو بھی تازہ پیشرفت سے آگاہ کیا گیا ہے اور وہ اس پر خوش ہے۔

فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خود مذاکرات کیلئےرابطہ کیا، امریکا نے ایران کو اپنے جہازوں پر موجود تیل فروخت کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور امریکی وفد نے ایرانی نمائندوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی ہے، ایران شدت سے معاہدہ چاہتا ہے اور ڈیل آئندہ 5 دن یا اس سے بھی پہلے ممکن ہے۔

ٹرمپ کے مطابق دونوں ممالک کئی نکات پر متفق ہو چکے ہیں اور مجموعی طور پر 15 نکات پر مذاکرات جاری ہیں، جن میں سرفہرست ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دینا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا تاہم ڈیل کی حتمی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

امریکی صدر نے کہا کہ اگر معاہدہ ہو گیا تو یہ خطے اور ایران کے لیے مثبت آغاز ہوگا اور ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر بی 52 بمبار کے ذریعے حملہ نہ کیا جاتا تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ سکتا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ایران میں ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق حکمت عملی پر بات کرنے سے گریز کیا۔

ایرانی قیادت کے حوالے سے ٹرمپ نے متضاد بیانات دیتے ہوئے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کی موجودہ صورتحال کیا ہے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں نقصان پہنچایا جائے۔