مارک کارنی اور ٹرمپ کا چینی الیکٹرک گاڑیوں کے معاہدے پر تبادلہ خیال

فرانس( جی سیون اجلاس، کینیڈین میڈیا رپورٹس)جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی غیر رسمی گفتگو مائیک پر ریکارڈ ہو گئی، جس میں کینیڈا کی جانب سے محدود تعداد میں چینی برقی گاڑیوں کی درآمد کے معاہدے پر تبادلہ خیال سامنے آیا۔

رپورٹس کے مطابق عالمی رہنماؤں کے ورکنگ لنچ سے قبل مارک کارنی ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس گئے، جہاں ابتدا میں دونوں رہنماؤں نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی میز پر رہ جانے والی گھڑی کے بارے میں ہلکے پھلکے انداز میں گفتگو کی۔

بعد ازاں مارک کارنی نے چین کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کا ذکر کیا جس کے تحت کینیڈا محدود تعداد میں چینی برقی گاڑیاں کم درآمدی محصولات پر منگوا سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت زیادہ سے زیادہ 49 ہزار گاڑیاں درآمد کی جائیں گی، جو کینیڈا کی مجموعی مارکیٹ کا تین فیصد سے بھی کم حصہ بنتی ہیں، اور اس کے لیے واضح حد مقرر کی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ تجویز پسند آئی۔

چین کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے پر امریکی انتظامیہ پہلے ہی تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں خبردار کر چکے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چینی گاڑیوں کے امریکا میں داخلے کا راستہ نہیں بننے دیں گے اور اس حوالے سے نئے محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

دوسری جانب کینیڈا کی گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی برقی گاڑیوں کی درآمد کے معاہدے پر نظرثانی کی جائے، کیونکہ اس سے شمالی امریکا کی آٹو انڈسٹری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین نے چینی برقی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ بعض امریکی قانون ساز انہیں قومی سلامتی کیلئےممکنہ خطرہ قرار دے چکے ہیں۔