واشنگٹن (رائٹرز/نیویارک ٹائمز) امریکا نے ایران جنگ کے باعث خالی یا محدود کیے گئے مشرقِ وسطیٰ کے سفارتی مشنز میں عملے کی دوبارہ تعیناتی شروع کرنے کی تیاری کرلی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ لبنان، اسرائیل، سعودی عرب اور عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتی مشنز میں عملے کی واپسی شروع کی جا رہی ہے، جبکہ ریاض میں تعینات امریکی سفارتی عملے کے اہلِ خانہ کو بھی واپس آنے کی اجازت دی گئی ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کی ایک اندرونی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہنگامی اقدامات میں کمی اور سفارتی عملے کی واپسی کا عمل رواں ہفتے شروع ہو سکتا ہے۔ اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، قطر، اردن، عمان، عراق اور کویت میں امریکی سفارتی مشنز میں عملے کی تعداد بتدریج بڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض سفارتخانوں میں عملہ فوری طور پر مکمل تعداد تک نہیں پہنچایا جائے گا اور سکیورٹی صورتحال کے جائزے کی بنیاد پر محدود سطح پر کام جاری رکھا جائے گا۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ عملے کی تعیناتی کے فیصلے مسلسل سکیورٹی جائزوں اور سفارتی اہلکاروں و ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔
امریکی سفارتی مشنز میں عملے کی تعداد کم کرنے اور غیر ضروری اہلکاروں کو واپس بلانے کا سلسلہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اس دوران خطے میں امریکی سفارتی عملے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے متعدد ہنگامی اقدامات کیے گئے تھے۔
امریکی حکام کی جانب سے سفارتی عملے کی واپسی کا فیصلہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ فوری طور پر بڑے پیمانے پر دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ پہلے کے مقابلے میں کم محسوس ہو رہا ہے، تاہم خطے میں سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

