ایران نے میرے ایک بیٹے کو قتل کرنے کی کوشش کی: نیتن یاہو کا دعویٰ

تل ابیب (عرب میڈیا/اسرائیلی میڈیا) اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو نشانہ بنا کر اسے قتل کرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے مبینہ حملے کی تاریخ، مقام یا متاثرہ بیٹے سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

عرب میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ان کے ایک بیٹے کو نشانہ بنایا اور اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔

نیتن یاہو نے یہ دعویٰ سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جانب سے نیتن یاہو کے خاندان کو 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق گفتگو کے ردِعمل میں کیا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کے خاندان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا کوئی عیش نہیں بلکہ ضرورت ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایرانی ان کے خاندان کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

نیتن یاہو کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اسرائیلی حکام نے جولائی میں نیتن یاہو کے دونوں بیٹوں اور اہلیہ کے لیے اضافی ذاتی سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

نیتن یاہو کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی عام انتخابات سے قبل ان کی اتحادی حکومت رائے عامہ کے جائزوں میں مشکلات کا شکار ہے۔

دوسری جانب ایران نے اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کے بعد ایران میں ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔

مجتبیٰ خامنہ ای اپنی تقرری کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے، تاہم اپنے والد کی تدفین کے موقع پر جاری پیغام میں انہوں نے سابق سپریم لیڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔