تہران/خلیج( ایران انٹرنیشنل، امریکی حکام، سی بی ایس نیوز، یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز)ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں بدھ کی صبح قشم، بندر عباس اور سیریک کے علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ آوازیں مقامی وقت کے مطابق تقریباً 1:30 بجے سنی گئیں، جبکہ بعد ازاں ایران انٹرنیشنل کو بھی ایک پیغام موصول ہوا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ صبح 4:00 بجے لارک جزیرے کی سمت سے مزید دھماکوں جیسی آوازیں سنی گئیں۔
ہرمزگان صوبائی حکام کے تعلقات عامہ کے دفتر کے مطابق قشم میں سنی جانے والی آوازیں دراصل مائیکرو ایریل وہیکلز اور جاسوس ڈرونز کے خلاف دفاعی کارروائی کا نتیجہ تھیں، اور کسی قسم کے نقصان یا دھماکے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب امریکی حکام کے حوالے سے سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج کے علاقے میں ایک کارگو جہاز کو ممکنہ لینڈ اٹیک کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے کئی افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جہاز “سی جی ایم سان انتونیو” تھا، جو ایک فرانسیسی کمپنی کی ملکیت ہے، اور اسے مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات نشانہ بنایا گیا۔ جہاز اس سے قبل دبئی کے قریب موجود تھا تاہم اس کی موجودہ پوزیشن واضح نہیں ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (UKMTO) نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسے ایک کارگو جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع ملی ہے۔ ادارے کے مطابق اتوار سے اب تک خطے میں بحری جہازوں پر فائر، چھوٹے کشتیوں کے حملوں اور پروجیکٹائل واقعات سمیت متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو امریکا اور اسرائیل کے فوجی استعمال کیلئے پلیٹ فارم نہ بننے دے۔
ترجمان نے کہا کہ اگر اماراتی سرزمین سے ایران کے جزائر، بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کا “تباہ کن اور ناقابلِ تلافی جواب” دیا جائے گا۔خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری حملوں کی اطلاعات کے بعد صورتحال مزید حساس ہوتی جا رہی ہے جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے نگرانی اور ہائی الرٹ جاری ہے۔

