کراچی (نامہ نگار) وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے اعتراف کیا ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافات موجود ہیں جو نچلی سطح تک بھی پہنچ چکے ہیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کو مضبوط بنانے کا واحد راستہ پارٹی انتخابات ہیں، جو اکتوبر میں ہونے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلافات ختم کرنے کی بہت کوشش کی گئی، تاہم ممکن ہے اس میں کوئی کمی رہ گئی ہو، پارٹی انتخابات کے بغیر ان اختلافات کا خاتمہ ممکن نہیں۔مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پارٹی انتخابات میں کارکنان جسے کامیاب اور جسے ناکام قرار دیں، سب کو اس فیصلے کو قبول کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان میں کوئی اختلاف نہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی خراب حکمرانی کے حوالے سے بھی پارٹی میں کوئی کنفیوژن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم پاکستان کے معاملات کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اگر مجوزہ آئینی ترمیم مان لی جاتی تو آج گلی کوچوں میں اختیارات اور وسائل موجود ہوتے۔28ویں آئینی ترمیم سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس میں کسی ایک جماعت کی فتح یا ناکامی نہیں ہوگی بلکہ یہ ملک کی فتح یا ناکامی کا معاملہ ہوگا۔

