لندن(رائٹرز، خبر ایجنسیاں)باب المندب اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی بحری آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ سرگرمیوں پر بڑھتے ہوئے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سمندری جہازوں کی نگرانی کرنے والے ادارے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدھ کے روز صرف دو تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ایک روز قبل اس راستے سے آٹھ جہاز گزرے تھے۔
اسی طرح باب المندب سے بدھ کے روز صرف ایک تجارتی جہاز گزرا، جبکہ اس سے ایک روز پہلے اس اہم بحری گزرگاہ سے 20 تجارتی جہازوں نے سفر کیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً 130 سے 140 بحری جہاز گزرتے تھے، جبکہ باب المندب کی ناکہ بندی کے اعلان سے قبل والے ہفتے میں اس راستے سے یومیہ اوسطاً 41 تجارتی جہاز گزر رہے تھے۔
ماہرین کے مطابق بحری آمدورفت میں یہ غیر معمولی کمی خطے کی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔

