ریاض (اسرائیلی اخبار، رائٹرز) اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثیوں کی جانب سے باب المندب پر قبضے اور اہم بحری گزرگاہ کی بندش کے خطرے سے نمٹنے کیلئےاسرائیل سے انٹیلی جنس معاونت طلب کی ہے۔
اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ کے مطابق سعودی ولی عہد نے یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اسرائیل سے بھی بالواسطہ مدد طلب کی ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیل اور دیگر خلیجی ممالک سے براہِ راست جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذریعے بالواسطہ رابطے کرکے انٹیلی جنس اور دیگر معاونت طلب کی۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق انصار اللہ کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی سے امریکا کے انکار نے سعودی عرب کو مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اس وقت متعدد محاذوں سے حملوں کی زد میں ہے، جبکہ حوثیوں کی پیش قدمی اور باب المندب پر کنٹرول نے سعودی عرب کے برآمدی راستوں کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم امریکا نے براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کرتے ہوئے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف کے تعین میں معاونت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔تاہم سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل سے انٹیلی جنس معاونت طلب کرنے کے دعوے کی رائٹرز یا دیگر بڑے بین الاقوامی ذرائع سے آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

