سعودی عرب کے کنگ خالد ایئر بیس پر بڑے میزائل و ڈرون حملے کا حوثیوں کا دعویٰ

صنعا (رائٹرز، انادولو نیوز ایجنسی) یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ نے سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس پر درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق حملے میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے اور کنگ خالد ایئر بیس کے طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور اسلحہ و گولہ بارود کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔

رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے خمیس مشیط سمیت جنوبی سعودی عرب کے 4 شہروں میں مختصر مدت کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کیے، تاہم سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے حملے میں ہونے والے نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حالیہ دنوں میں کیے گئے سیکڑوں فضائی حملوں کے جواب میں یہ کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحل پر اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے باب المندب کے قریب اسٹریٹجک میون جزیرے پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق میون جزیرہ باب المندب کے درمیان واقع ہے اور اس پر قبضے سے حوثیوں کی اہم بحری گزرگاہ پر گرفت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر کے گریٹر اور لیسر حنیش جزائر پر بھی قبضہ کرلیا ہے، جس کے بعد باب المندب اور بحیرۂ احمر کی اہم بحری گزرگاہ پر ان کے بڑھتے ہوئے کنٹرول نے عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔