بات تو سچ ہے مگر بات ہے۔۔۔ کی!

لکھنے والے حضرات کے دباؤ کی وجہ سے مجھے اپنی تحریر میں وقفہ کرنا پڑا ہے اور آج بھی یہی کیفیت تھی اور ارادہ کر لیا تھا کہ ناغہ چلے گا، لیکن حالات اور ان پر تجزیوں اور تحریروں نے اکسایا کہ جس حقیقت کا ذکر پہلے کر چکا ہوا ہوں وہ اب ثابت ہی ہو گئی ہے تو اس پر چند سطور ضرور پیش کر دوں۔ کہتے ہیں کہ رموز مملکت خویش ہی جانتے ہیں اور یہی اس وقت بھی عرض کیا تھا جب بیانات کی گرم بازاری میں مذاکرات ختم کر دیے جا رہے تھے حتیٰ کہ امریکی نائب صدر اور ایرانی وفد کی سوئٹزر لینڈ آمد بھی ملتوی کرا دی گئی لیکن بعد میں یہ سب نہ صرف پہنچ گئے بلکہ مذاکرات بھی ہوئے اور ٹرمپ کے ٹرمپیانہ بیان پر شدید احتجاج کے باوجود ایرانی وفد نے بائیکاٹ کی دھمکی دی لیکن بقول جے ڈی وینس ایرانی وفد نے کانفرنس ہال کو نہ چھوڑا۔

اب بھی بظاہر یہ کیفیت ہے کہ صدر ٹرمپ اور ایرانی ترجمان آمنے سامنے ہیں۔امریکیوں کی طرف سے آبناء ہرمز کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے جبکہ ٹرمپ پھر سے دھمکیاں دیتے جا رہے ہیں۔ وہ ایران کی یورینیم افزددگی اور ایٹمی نگران اتھارٹی کے معائنہ پر تکرار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ایران نے مان لیا،وہ ہر بات مان رہے ہیں اور ایٹمی تنصیبات کے معائنہ پر بھی راضی ہیں۔ایٹمی اتھارٹی کی ٹیم جلد ہی ایران جا کر معائنہ کرے گی،ایران کی طرف سے جواب واضح ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ یہ اب ایسی ہی گرم بازاری ہے جو مذاکرات سے پہلے اور کانفرنس ہال میں وفود کی بات چیت کے دوران بھی جاری تھی،عرض کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی فکر ہے کہ ان کی مقبولیت مسلسل کم ہو رہی ہے اور ایسی بڑھکیں ان کی ضرورت ہے۔

قارئین! غور فرما لیں آبناء ہرمز کھلی ہے۔ایران نے عمان سے مشاورت بھی کر لی ہے اور انتظام اسی کے پاس ہے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے اب اگر اس کا بحری بیڑہ اور بحری جہاز موجود بھی ہیں تو ان کا فاضلہ بڑھ چکا ہے تو بیان بازی اور عمل میں فرق ہے،اسی کو واضح کرنے کے لئے یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ آج ہی پاکستان کے دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بڑی وضاحت سے بتایا گیا کہ پاکستان کی دوست ممالک کے تعاون سے سر توڑ کوشش کے بعد جو مفاہمت ہوئی اس کے نتیجے میں تکنیکی بات جاری ہے اور اور تین مختلف گروپ بنائے گئے جو مذاکرات کر رہے ہیں۔انہی میں ایک گروپ افزودہ یورینیم اور ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔دوسرا گروپ منجمد اثاثوں اور معاشی امور پر بات چیت کر رہا ہے جبکہ تیسرا گروپ اسرائیل اور لبنان کے حوالے سے امور طے کر رہا ہے۔

قارئین کرام! اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ محترم ٹرمپ کے بیان اور دھمکیاں اور اس کے جواب میں ایرانی موقف کی کیا حیثیت ہے، کیا یہ اپنے اپنے ملک کے عوام اور حمایتی عناصر کے اطمینان کے لئے نہیں،جن سے دنیا میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔ اب آپ آئل مارکیٹ پر بھی غور کر لیں تو بات صاف اور ہاتھیوں کے دانتوں والی ہے۔