برطانوی پارلیمنٹ میں یورپی یونین میں واپسی پر بحث، حکومت نے حتمی فیصلہ نہیں کیا

لندن (ایجنسیاں)برطانیہ کی یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے مطالبے پر پارلیمنٹ میں بحث مکمل ہوگئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے بریگزٹ کے معاشی اثرات، یورپی ممالک سے تجارتی تعلقات اور دوبارہ رکنیت کے امکانات پر اظہارِ خیال کیا۔

برطانوی پارلیمنٹ کی سرکاری کارروائی کے مطابق عوامی درخواست پر ایک لاکھ 11 ہزار 687 افراد نے دستخط کیے تھے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کیلئے مذاکرات شروع کرے۔

بحث میں حامی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد تجارت، کاروبار اور نوجوانوں کے لیے مواقع متاثر ہوئے ہیں، اس لیے دوبارہ شمولیت سمیت مستقبل کے تمام امکانات پر غور کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب کنزرویٹو جماعت کے نمائندے مائیک وُڈ نے دوبارہ شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین میں واپسی کا عمل آسان نہیں ہوگا اور اس کے لیے نئی شرائط قبول کرنا پڑ سکتی ہیں۔

حکومتی نمائندے مارک فرگوسن نے بحث کے دوران کہا کہ حکومت یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور معیشت کو فائدہ پہنچانے کے لیے مزید اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان آئندہ تعلقات کے مختلف امکانات کا جائزہ لے رہی ہے اور نومبر میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے موقع پر اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آسکتی ہیں۔

پارلیمنٹ میں بحث کے اختتام پر درخواست کے مطالبے پر ووٹنگ نہیں ہوئی اور برطانیہ کی یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔