وینکوور (سی بی سی نیوز، حکومتِ برٹش کولمبیا) کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلاتی آگ کی شدت میں اضافے کے باعث 600 املاک کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جبکہ 5700 سے زائد املاک کو ممکنہ انخلا کیلئےالرٹ جاری کیا گیا ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوسرے نصف حصے میں تقریباً 34 ہزار آسمانی بجلیاں گرنے کے بعد جنگلاتی آگ کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ منگل تک صوبے بھر میں 85 مقامات پر آگ بھڑک رہی تھی، جن میں سے 79 فیصد آتش زدگی کی وجہ آسمانی بجلی قرار دی جا رہی ہے۔
ہنگامی انتظامات اور موسمیاتی تیاری کی وزیر کیلی گرین نے بتایا کہ حکومت اس وقت 430 بے گھر ہونیوالے افراد کو امداد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے خطرے سے دوچار علاقوں کے مکینوں پر زور دیا کہ وہ ہنگامی امدادی خدمات کیلئےپیشگی رجسٹریشن کرائیں۔
انہوں نے بتایا کہ نئی سہولت کے تحت متاثرین آن لائن رجسٹریشن کے بعد ای ٹرانسفر کے ذریعے امداد حاصل کر سکتے ہیں ،انخلا پر مجبور افراد کو رہائش کیلئےفی رات 200 کینیڈین ڈالر تک مالی معاونت بھی دی جا رہی ہے۔
پیر کے روز کلنٹن کے جنوب مغرب میں واقع ڈاؤننگ پارک کے علاقے میں پیئر لیک کی جنگلاتی آگ کے باعث دو نئے انخلا کے احکامات جاری کیے گئے، جن میں ڈاؤننگ پروونشل پارک کا کیمپ گراؤنڈ، ڈے یوز ایریا اور 11 رہائشی املاک شامل ہیں۔
وزیر جنگلات راوی پرمار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو بھی مسترد کیا، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ کینیڈا کے جنگلاتی دھوئیں سے امریکا کی فضا آلودہ ہو رہی ہے۔
راوی پرمار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سرحد کے دونوں جانب جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہے اور اس مسئلے کا حل الزام تراشی نہیں بلکہ مشترکہ اقدامات ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال برٹش کولمبیا نے کیلیفورنیا کی آگ بجھانے میں بھی مدد فراہم کی تھی اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ تعاون کے لیے تیار ہے۔
حکام نے خبردار کیا کہ شدید گرمی اور خشک سالی کی صورتحال بدستور برقرار ہے، جس کے باعث خصوصاً اوکاناگن کے علاقے میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے اور چنوک سالمَن مچھلی سمیت آبی حیات کو خطرات لاحق ہیں۔
صوبائی حکومت نے شہریوں سے پانی کے محتاط استعمال اور شدید گرمی کے دوران بزرگوں، تنہا رہنے والے افراد اور صحت کے مسائل سے دوچار لوگوں کا خصوصی خیال رکھنے کی اپیل کی ہے۔

