میرپور، آزاد کشمیر (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول برخوردار، میری بات کا برا نہ ماننا، نوک جھوک ہونی چاہیے، مار کٹائی نہیں، اس کو کشمور نہیں سمجھنا، یہ کشمیر ہے اور یہ میرپور ہے، میرپور خاص نہیں۔
میرپور، آزاد کشمیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کشمیر سے ہمارا مضبوط رشتہ ہے، میرپور ایک خوبصورت شہر ہے، تاہم آج اس کا حال اتنا اچھا نہیں جتنا ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اقتدار سے جانے کے بعد آزاد کشمیر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔
نواز شریف نے کہا کہ وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ان کے بعد آنے والوں نے کشمیر کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر کو اپنا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر سمجھتے ہیں اور آج آزاد کشمیر کے لیے اپنا منشور بھی ساتھ لائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے ہر بڑے منصوبے پر مسلم لیگ (ن) کی مہر نظر آئے گی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح نوجوانوں کو تعلیم فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں بھی کینسر اور دل کے امراض کے جدید اسپتال قائم ہونے چاہئیں۔ ان کے بقول مریم نواز یہاں جدید الیکٹرک بسیں اور 10 موبائل اسپتال بھی لا رہی ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تو کشمیر میں موٹرویز تعمیر کی جائیں گی، مری سے مظفرآباد تک ایکسپریس وے بنائی جائے گی، میرپور کے ہر گھر کو گیس کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ میرپور میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی قائم کیا جائے۔

