تھائی لینڈ میں 14 سالہ لڑکے کی اسکول میں فائرنگ، طلبہ اور اساتذہ سمیت 6 افراد ہلاک

بنکاک(رائٹرز، سی این این) تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے قریب ایک ہائی اسکول میں 14 سالہ مسلح لڑکے نے فائرنگ کرکے 3 طلبہ اور 3 اساتذہ سمیت کم از کم 6 افراد کو ہلاک کردیا، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

پولیس کے مطابق حملہ آور نے اسکول میں فائرنگ سے قبل اپنے گھر میں دادی اور دادا کو بھی مبینہ طور پر قتل کیا تھا۔ بعد ازاں اسکول میں فائرنگ کرنے والے 14 سالہ لڑکے نے خود کو بھی گولی مار لی، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی۔

پولیس ترجمان لیفٹیننٹ جنرل ٹرائرونگ فیوپن نے بتایا کہ اسکول میں فائرنگ سے کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 طلبہ اور 3 اساتذہ شامل ہیں، جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 9 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر 12 سے 17 سال کی عمر کے نوجوان شامل ہیں، جبکہ فائرنگ کا سب سے کم عمر متاثرہ بچہ 12 سال کا ہے۔پولیس کے مطابق حملہ آور نے اپنے دادا کے پستول سے فائرنگ کی۔ فائرنگ کا واقعہ بنکاک کے شمال میں نونتھابوری صوبے کے بنگ کروئی ضلع میں واقع دیبسیرن نونتھابوری اسکول میں پیش آیا، جہاں تقریباً 3 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

تھائی وزیراعظم انوتین چارنویراکول نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک سانحہ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

فائرنگ کے دوران اسکول میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کلاس روم میں موجود طلبہ نے فائرنگ کی آوازیں سن کر میزوں کے نیچے چھپ کر اپنی جانیں بچائیں، جبکہ بعد میں سامنے آنے والی ویڈیوز میں طلبہ کو اسکول سے باہر نکلتے اور عملے کے ایک رکن کو انہیں محفوظ مقام کی جانب منتقل کرتے دیکھا گیا۔

ایک 18 سالہ طالب علم نے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدا میں اسے لگا کہ پٹاخے چل رہے ہیں، تاہم کچھ ہی دیر بعد فائرنگ کی آوازیں مسلسل آنے لگیں۔ اس کے مطابق فائرنگ کچھ دیر رکنے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی۔فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی والدین بڑی تعداد میں اسکول پہنچ گئے، جہاں ایمبولینسز اور امدادی ٹیموں کی آمد و رفت جاری رہی۔

ایک امدادی کارکن نے رائٹرز کو بتایا کہ جب امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں تو وہاں مکمل افراتفری کا عالم تھا۔ زخمی طلبہ کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں بعض کے جسم کے پچھلے حصے، سینے اور بازوؤں پر گولیاں لگی تھیں۔

پولیس کے مطابق حملہ آور اسکول میں فائرنگ کے بعد زخمی حالت میں ملا اور اس نے اپنے سر کے دائیں جانب گولی ماری تھی۔ امدادی کارکنوں نے اسے طبی امداد دینے کی کوشش کی اور اسپتال منتقل کیا، تاہم بعد میں اس کی موت کی تصدیق کردی گئی۔

حکام نے اسکول سے ایک پستول اور متعدد گولیاں بھی برآمد کی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور اپنے والدین کے بجائے دادا دادی کے ساتھ رہتا تھا تاہم تفتیش کار یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسے ہتھیار تک رسائی کیسے حاصل ہوئی۔تھائی مرکزی تحقیقاتی بیورو نے کہا ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے۔

رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ میں شہریوں کے پاس اسلحے کی تعداد خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم سمال آرمز سروے کے 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق تھائی شہریوں کے پاس ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد غیر فوجی ہتھیار موجود تھے، یعنی ہر 100 افراد کیلئےتقریباً 15 ہتھیار۔

واشنگٹن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن کے 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں فلپائن کے بعد تھائی لینڈ میں فائرنگ سے قتل کی شرح سب سے زیادہ ہے۔رواں سال فروری میں بھی جنوبی تھائی لینڈ کے ہاٹ یائی ضلع کے ایک اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں ایک استاد ہلاک اور ایک طالب علم زخمی ہوا تھا۔

2022 میں شمال مشرقی تھائی لینڈ کے ایک بچوں کے نگہداشت مرکز میں فائرنگ کے واقعے میں 36 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 24 بچے شامل تھے۔ یہ واقعہ تھائی لینڈ میں اپنی نوعیت کے مہلک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔