ڈربن(ایجنسیاں) جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں رواں سال فروری میں پاکستانی نوجوان عثمان کے مبینہ قتل کے مقدمے میں نامزد 2 ملزمان کو پولیس نے اشتہاری قرار دے کر گرفتاری کیلئےکارروائی شروع کردی۔
جنوبی افریقی پولیس سروس کی جانب سے جاری کردہ مطلوب ملزمان کے اعلامیے کے مطابق دونوں ملزمان کے نام محمد عمران ملک اور محمد علی ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق عثمان کے قتل کا مقدمہ ڈربن کے علاقے امپینڈل کے متعلقہ تھانے میں مقدمہ نمبر 62/02/2026 کے تحت درج کیا گیا۔
پولیس نے دونوں مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کردی ہیں جبکہ تفتیشی حکام نے عوام اور مقامی کمیونٹی سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کے بارے میں کسی قسم کی معلومات رکھنے والے افراد پولیس سے رابطہ کریں۔
پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے میں تفتیشی افسر وارنٹ آفیسر مخبیلا سے رابطے کی ہدایت کی گئی ہے اور ملزمان سے متعلق اطلاع دینے کیلئے 0795001341 نمبر فراہم کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقتول عثمان کو رواں سال فروری میں ڈربن کے علاقے امپینڈل میں مبینہ طور پر قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد مقامی پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی۔
مقتول کے اہل خانہ کے مطابق عثمان اپنے خاندان اور دیگر رشتہ داروں کیلئےمعاشی سہارا تھا اور اس کی موت سے خاندان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جنوبی افریقہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی میں بھی واقعے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مقتول کے ورثا اور کمیونٹی رہنماؤں نے حکومت پاکستان، وزیراعظم، وزارت خارجہ اور جنوبی افریقہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا سفارتی سطح پر نوٹس لے کر جنوبی افریقی حکام کے ساتھ رابطہ کیا جائے اور ملزمان کی گرفتاری اور مقدمے کی مؤثر پیروی یقینی بنائی جائے۔
ورثا کا کہنا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی شہریوں کے قتل کے واقعات میں متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کیلئےحکومت کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

