مظفرآباد (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جن کے اپنے صوبوں کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں وہ آزاد کشمیر میں سڑکیں کیا بنائیں گے، اور جن کے صوبوں میں وسائل کرپشن کی نذر ہوتے ہیں وہ آزاد کشمیر کو کیا وسائل دیں گے۔
مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ بعض لوگ آزاد کشمیر آ کر تقاریر کر رہے ہیں، شکوے شکایات اور الزامات لگا رہے ہیں، لیکن وہ احترام سے پوچھتی ہیں کہ آخر وہ کس کی شکایت کر رہے ہیں، کیونکہ یہاں حکومت انہی کی اپنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھمائے، وہ ان کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے، جبکہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ وہ صرف وعدے کرنے نہیں بلکہ پنجاب میں اپنی دو سالہ حکومت کی کارکردگی ساتھ لے کر آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) کو منتخب کیا تو جماعت آزاد کشمیر کی تقدیر بدلنے کا وعدہ پورا کرے گی۔
مریم نواز نے کہا کہ جہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے وہاں کے حالات اور دیگر علاقوں کے حالات کا تقابل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کے ہر حصے میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، تین سو نواز شریف اسکول تعمیر کیے جا رہے ہیں، اور حکومت عوام کی فلاح کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آزاد کشمیر کے ہر بچے کو مفت تعلیم کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ جدید موبائل ہیلتھ یونٹس کے ذریعے صحت کی سہولتیں عوام کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں بے گھر افراد کے لیے دو لاکھ گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں اور “اپنی چھت، اپنا گھر” منصوبہ آزاد کشمیر میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے آزاد کشمیر میں “ستھرا آزاد کشمیر” منصوبہ شروع کرنے کی بھی درخواست کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسوں، نوجوانوں کے لیے 2 ہزار اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس دینے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوئی تو آزاد کشمیر کے ہر گاؤں تک سڑکیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ پنجاب کی طرح ترقی کے ثمرات وہاں بھی پہنچ سکیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں بلکہ وعدے نبھانے والوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مظفرآباد میں مہمان بن کر نہیں آئیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر کو اپنا گھر سمجھتی ہیں۔ ان کے بقول وہ خون، دل، دماغ، روح اور نسلوں کے اعتبار سے بھی کشمیری ہیں۔
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ 2021ء کے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے 17 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ اُس وقت کے وزیراعظم کی جماعت صرف 3 نشستیں جیت سکی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اُس وقت انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے، جس کے باعث آج آزاد کشمیر کو مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جتنا مضبوط پاکستان ہوگا، اتنا ہی مضبوط آزاد کشمیر بھی ہوگا، اور اگر آج کشمیر میں نواز شریف کی حکومت ہوتی تو بہت سے مسائل پیدا نہ ہوتے۔

