غریب کے بچوں کی اموات کوئی نئی نہیں، لیکن نومولود بچوں کا ہسپتال کی نرسری میں جل کر، جھلس کر یا پھیپڑوں میں دھواں بھر جانے سے مرنا بیحد تکلیف دہ ہے اور یہ کوئی واقعہ پہلی مرتبہ اس ملک میں نہیں ہوا۔ ہسپتالوں میں نومولود بچوں کو ماؤں کے پاس پہنچانے تک (ایک خصوصی کمرے) نرسری میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں بچوں کی حفاظت کے لئے ڈاکٹر اور نرسیں مستقل موجود ہوتی ہیں، لیکن نجانے اس نرسری میں ہی آگ کیوں لگتی ہے۔ کبھی پنجاب، کبھی سندھ میں ”بچوں کی نرسری“ میں ”آگ لگ“ جاتی ہے۔ اب اسلام آباد جو کہ وفاقی دارالحکومت ہے وہ بھی محفوظ نہیں رہا۔ اسلام آباد کے ”نامور ہسپتال پمز“ جس کو ہر چھوٹے بڑے کے علاج کے لئے منتخب کیا جاتا ہے وہاں بھی نرسری میں آگ لگتی ہے اور وہاں موجود 15نومولود میں سے 14مر جاتے ہیں۔ وہ کلیاں جو ابھی کھلی نہیں تھیں انہیں مسل دیا جاتا ہے۔ (مسل دیا جاتا ہے پر ڈاکٹروں کو اعتراض ہوگا لیکن جن حالات میں بچوں کی اموات ہوئیں اس پر اور کیا کہیں ذمہ داری یقینا اس عملے کی ہے جن کی نگرانی میں ان کلیوں کو رکھا گیا تھا)۔ ایک طرف پاکستان میں پمز کی تصویریں وائرل ہو رہی ہیں جن میں روتے چیختے، چلاتے، دھاڑیں مارتے ماں باپ ہیں اور دوسری طرف تائیوان کے 5۔7 طاقت کے ہولناک زلزلے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جو وہاں کے کسی ہسپتال کی نرسری کی ہے جہاں زلزلے کے خوفناک جھٹکوں سے بچوں کے چھوٹے چھوٹے بیڈ آپس میں ٹکرا رہے ہیں اور پھر ایک نرس، دوسری نرس، تیسری نرس، چوتھی نرس یہ بھول کر کہ زلزلے سے چھت گرگئی تو ان کا کیا ہوگا، بھاگتی کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور بچوں کے اِدھر سے اُدھر جھولتے چھوٹے چھوٹے بیڈوں کو سنبھالتی ہیں۔ ان پہ جھک جاتی ہیں ان بچوں کو بچاتی ہیں۔ شاید اس لئے کہ وہ ہم جیسی پتھر دل، سنگدل نہیں ہیں۔ہمارے ڈاکٹر اور نرسیں تو بچوں کو چھوڑ کے اپنی جانیں بچا کر بھاگ گئے۔ پمز ہسپتال کے ترجمان کے مطابق نرسری کے اندر دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں اگر 4 افراد واقعی وہاں تھے تو کیا وہ دو دو بچے اُٹھا کے نہیں بھاگ سکتے تھے اگر وہ چاروں دو دو بچے اُٹھا کے بھاگتے تو آٹھ بچے اس آگ سے بچ جاتے، لیکن انہیں تو اپنی جان پیاری تھی وہ اپنی جانیں بچا کے بھاگ نکلے۔ کیا ہمارے میڈیکل کالجز میں یہ پڑھایا جا رہا ہے، یہ سکھایا جا رہا ہے۔ مریض جائے بھاڑ میں اپنی جان بچاؤ۔ کوئی جلتا ہے جلے، کوئی مرتا ہے مرے، تم بھاگو جان بچاؤ کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔ ایک بچی جس کی جان بچائی گئی ہے اس کو کسی ڈاکٹر یا نرس نے نہیں اسے اس کی ”سگی خالہ“ نے بچایا ہے۔ جس کے بقول اس نے جیسے ہی ایک ڈاکٹر کو یہ کہہ کر بھاگتے دیکھا کہ آگ لگی ہے وہ بھاگ کر نرسری میں گھس گئی اپنی بھانجی کو اُٹھایا، ساتھ والے وارڈ میں لیٹی بہن کو سنبھالا اور ان دونوں کو باہر نکال لائی۔
ہسپتال انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ نرسری سے ملحقہ کمرے سے چار بچوں اور تین ماؤں کو نکالا۔ کل 73 مریضوں کو بچایا گیا۔ وہ کمرہ، وہ وارڈ جہاں آگ ہی نہیں لگی جہاں کچھ ہوا ہی نہیں وہاں سے لوگ نکال لئے،جہاں آگ لگی تھی۔ وہاں کس نے بچانا تھا۔ یہ ڈاکٹر یہ نرسیں کیوں بھاگیں۔ اصل سوال یہی ہے اور اس کا جواب یقینا سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے دیا ہے۔ جس میں سفارش کی گئی ہے کہ (1)حادثے کے موقع پر موجود غیر حاضر عملے کے خلاف کاروائی کی جائے۔ (2) اس ہسپتال میں کوئی بھی چیز بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے (3) ہسپتال میں سہولیات انتہائی ناکافی ہیں۔ یہ رپورٹ پمز ہسپتال کی انتظامیہ اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کے لئے جہاں شرمندگی کا باعث ہونی چاہئے وہیں انہیں اپنے منہ چھپا لینا چاہئیں۔ منہ پر کپڑا ڈال کر گھر سے نکلنا چائیے۔ استعفے دینے چاہئیں، گھر چلے جانا چاہئے۔ لیکن کیا بات ہے کہ مصطفی کمال پریس کانفرنس اور قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اپنا دفاع کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس تو کوئی اختیار نہیں تھا اختیار کسی اور کے پاس تھا، یعنی صرف وفاقی دارالحکومت کے 35 کلومیٹر میں صحت کی سہولیات کا مالک وزیر صحت اس مختصر علاقے کا بھی خیال نہیں رکھ سکتا تو بھائی تم کیا کر رہے ہو۔ کیوں وزیر ہو۔ اس لئے کہ تمہیں 10 – 15 لاکھ روپے تنخواہ ملے، جھنڈے والی گاڑیاں ملیں، حفاظت کے لئے پولیس ملے، مفت ایئر ٹکٹ ملیں،اندرون اور بیرون ملک مفت علاج ملے، گھر ملے۔ بجلی، پانی، ٹیلی فون، گیس کا بل نہ دینا پڑے۔ ان مفادات کے لئے آپ اگر وزیر صحت ہیں تو کوئی اور کام کیجئے یہ کام چھوڑ دیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار اور دیگر ممبران نے پمز ہسپتال کے دورے کے بعد کھلے کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ ڈاکٹروں کے بیانات میں تضاد ہے، نرسری میں بچوں کے بیڈ پر بچھی چادروں پر جلنے کا نشان بھی نہیں، نومولود بچوں کے لئے مطلوبہ احتیاطی تدابیر بھی نہیں تھیں۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر صحت مصطفی کمال اور سربراہ پمز ہسپتال ڈاکٹر رانا عمران سکندر اپنے استعفے دیں۔ آن لائن ڈیوٹی جتنے بھی ڈاکٹر نرسز غرض جو بھی عملہ تھا ان کے لائسنس تا عمر کے لئے معطل کر دیے جائیں۔
پمز ہسپتال میں جویریہ سمیع اللہ، عالیہ راشد،انیسہ عبداللہ، شکیلہ تنویر، سنبل عثمان، کرن سعد الرحمن، ماریہ قیوم، خضرہ مدثر، آمنہ خرم، حفظہ اشتیاق، عروس ادریس خان اور سدرہ عمران کا ایک ایک نومولود بچہ اور آسیہ بہادر کے جڑواں بچے اِس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ ان ماں باپ کو ہمت دے۔
14 بچوں کی موت پر ملک میں شور مچا ہوا ہے لیکن ہماری یاد داشت بہت کمزور ہے۔ لوگ جلد اسے بھی بھول جائیں گے، کیونکہ لوگوں کو یہ یاد نہیں کہ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں 2024ء میں 11 نومولود بچے اسی طرح جل کر ہلاک ہوئے تھے۔ فروری 2024ء میں سندھ گورنمنٹ ہسپتال (لیاقت آباد) میں دو پیرامیڈکس سمیت چار جل کر مرے۔ 27مئی 2023ء میں چلڈرن ہسپتال لاہور کی پیڈیاٹرک نرسری میں آگ لگنے سے ایک نومولود ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔ سروسز ہسپتال کے بچہ وارڈ میں 2012ء میں آگ لگنے سے چار بچے جل کر ہلاک 17 زخمی ہوئے تھے۔ ہم نے ان سب کو بھلا دیا لیکن یہ سب بچے جس دن جل کر مرے تھے وہ دن جب ہر سال آتے ہیں تو کوئی ان کی ماؤں سے پوچھے ان کی ”کوکھ کیسے جلتی“ ہے۔

