جازان (اے پی، رائٹرز) یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے شہر جازان میں تیل کی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی حکام نے جازان میں کسی تنصیب کو نقصان پہنچنے کی تصدیق نہیں کی۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق حوثیوں نے یہ کارروائی یمن کے حدیدہ گورنریٹ میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے حملوں کے جواب میں کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی عرب کے قومی ہنگامی انتباہی نظام نے جازان اور ینبع میں ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا، تاہم سعودی سول ڈیفنس نے بعد ازاں دونوں علاقوں میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا اور شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق یونانی سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی فضائی دفاع نے یمن سے ینبع میں تیل صاف کرنے کی تنصیبات کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا۔
واضح رہے کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے گزشتہ روز یمن کے حدیدہ گورنریٹ میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق کارروائی کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات سے نمٹنا تھا، جبکہ حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور تمام یمنی بندرگاہیں جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں۔
سعودی اتحاد نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو مزید فوجی کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ حوثیوں نے چند روز قبل سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا جائے گا۔ حوثیوں نے اس اقدام کو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کا جواب قرار دیا تھا۔

