حوثیوں کا مسئلہ کیا ہے؟

یمن کے حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب پر حملوں میں وقفہ بھی نہیں آ رہا اور یوں یہ سلسلہ دراز ہوتا نظر آ رہا ہے، اس سے اگر کسی کو خوشی ہو رہی ہے تو اسرائیل کی صہیونی انتظامیہ ہے اب اگر غور کیا جائے تو حوثیوں کی طرف سے یہ لڑائی کسی سرزمین کے حصول کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ اپنے عقائد کے تحت ایسا کر رہے ہیں ورنہ ان کی کشمکش تو یمن کی حکومت کے ساتھ ہی محدود رہنا چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا،یمنی حکومت تو خود ان کے خلاف برسر پیکار ہے۔ حوثیوں کی طرف جدید بیلسٹک میزائل اور ڈرونز داغنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان تو یہ جدید اسلحہ مہیا کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ پہلے سے جاری ہے کہ یمن پر مکمل قبضہ کی لڑائی کوسالوں سے چلی آ رہی ہے،اب مسئلہ یہ پیش آیا کہ حوثی حملے مکہ کے بعد مدینہ شریف پر ہوئے اور گذشتہ دِنوں آئل فیلڈ پر ہیں۔ سعودی متحدہ افواج کی طرف سے بہتر صلاحیت کا مظاہرہ ضرور کیا جا رہا ہے اس کے باوجود عام شہری متاثر ہو ہے ہیں۔ عمرے کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے اور اب بھی ہزاروں زائرین وہاں موجود ہیں لیکن جدید میزائل اور ڈرون حملوں نے عدم اطمینان پیدا کر دیا۔ دمام سے پروازیں بھی معطل کی گئیں اور یہ سلسلہ جدہ سے جاری ہے،دمام میں ایشیائی باشندوں کی بھاری تعداد بھی موجود ہے اور پاکستانی بھی ہزاروں ہیں، آرامکو پٹرولیم کے حوالے سے اہم ترین شہر ہے اور مغربی ماہرین کنٹرول کرتے ہیں اس لئے ان حملوں سے بجا طور پر مغربی ممالک اور مسلمان ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔

سعودی عرب اور یمنی حکومت کی طرف سے جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو سخت نقصان ضرور پہنچایا گیا لیکن ان کی مزاحمت ختم نہیں ہوئی کہ وہ جس صحرائی علاقے میں موجود ہیں وہ پہاڑی سلسلہ بھی ہے جس سے ان کو تحفظ مل جاتا ہے۔ سعودی افواج کی صلاحیتیں نظر تو آ رہی ہیں تاہم حوثی حملوں کی روک تھام کے لئے اب ترکیہ بھی اپنے دفاعی فوجی ماہرین بھجوا رہا ہے جو حملہ آوروں کے میزائل اور دیگر فضائی حملوں کو روکنے کے لئے تکنیکی معاونت مہیا کریں گے تاکہ شہری آبادی اور مقدس مقامات محفوظ رہیں۔ اس سلسلے میں کسی تبصرے اور تجزیے کے بغیر عرض کروں گا کہ ایران کی طرف سے اس لڑائی کو روکنے کے لئے ثالثی کوششوں کی پیشکش کی گئی،بقول صدر ایران دونوں اطراف سے کوئی جواب نہیں آیا۔ایرانی قیادت کا دعویٰ ہے کہ وہ فریقین کو میز پر لا کر مذاکرات میں معاونت کر سکتا ہے، میں کسی الزام کا ذکر کئے بغیر ایران سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے اثرو رسوخ کو استعمال کر کے جنگ بندی تو کرا دے۔ دوسری صورت میں یہ لڑائی پھیل بھی سکتی ہے ایرانی قیادت کو احساس کرنا چاہئے کہ دشمن(اسرائیل+امریکہ) بظاہر لاتعلق ہیں لیکن ان سے زیادہ مطمئن اور کوئی نہیں ہو گا۔

پہلے بھی عرض کیا کہ امریکہ کے رویے سے بھی حوثیوں کی حوصل افزائی ہوئی ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے ”پھوکے فائر“ ہی کئے گئے ہیں،روک تھام کے لئے کسی عملی کارروائی سے گریز ہی کیا ہے،حالات جس ڈگر پر جا رہے ہیں اس کی وجہ سے باب المندب اور ہرمز سے پٹرولیم کی بہم رسانی تاحال بری طرح متاثر ہے اور دنیا بھر میں اثرات محسوس کئے جا رہے ہیں، حال ہی میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں کچھ عرصہ سے بند سرحد کھول دی گئی ہے تاہم آئی ایس پی آر اور خود وزیر داخلہ محسن نقوی کی طرف سے واپسی پر کوئی خوشخبری نہیں دی گئی۔ اگرچہ دونوں اطراف تعلقات کے حوالے سے گرم جوشی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
یہ بڑا دیرینہ خواب ہے جو نہ ماضی میں پورا ہوا اور نہ حال میں کوئی صورت نظر آ رہی ہے، ایرانی قیادت کی طرف سے امریکی صدر کی دھمکیوں کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ ایران حملے کی صورت میں امریکی مفادات کو پہلے سے بھی زیادہ نقصان پہنچائے گا تو خلیجی ممالک کو فکر ہوتی ہے کہ پہلے بھی ایران کی طرف سے قریبی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تو فکر لاحق ہوئی اور سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک کی طرف سے امریکہ سے رابطہ کر کے حملے روکنے کو کہا گیا۔اگرچہ تمام مسلم ممالک امریکی، اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی حمایت کرتے رہے ہیں لیکن ایرانی میزائل اور ڈرون اگر ان کے شہروں پر گریں تو پریشانی لازم ہے۔

اس سلسلے میں بہتر حل اور طریقہ وہی ہے جو پاکستان کی طرف سے اختیار کیا گیا اور تمام مسلمان ممالک سے تحمل کے مظاہرے کی اپیل کی گئی اور کوشش کی گئی کہ آپس میں کوئی تنازعہ نہ ہو لیکن اب حوثی حملوں نے حالات میں بڑی تبدیلی کی ہے اور خطے میں اَمن کی حالت ٹھیک نہیں، ان حالات میں اسلامی کانفرنس کا اجلاس بلا لینا چاہئے تھا لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہوا۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ہمیں افغانستان رجیم کے تعاون سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور اب تو خود طالبان نے مداخلت کی اور نتیجہ بھگتا تاہم بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی بھارت اور افغان رجیم کے مکمل تعاون سے جاری ہے ایسے میں ریاست مجبور ہے کہ سخت جوابی کارروائی کرے۔اس دہشت گردی کی بدولت ملک کو نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی مسائل بھی درپیش ہیں ان کی وجہ سے ایمرجنسی اور گورنر راج کی ضرورت پیش آئی، ضرورت ہے اور اب بھی وقت ہے کہ ملک بھر کے تمام سیاسی عناصر ادراک کریں اور اگر دوسروں کو مذاکرات کیلئے تجویز دیتے اور نصیحت کرتے ہیں تو خود بھی اس پر عمل کریں۔