تہران (خبر ایجنسیاں) ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب 7 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا یا وہ بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر متاثر ہوئے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق شمالی خلیج فارس میں تیل کی غیر قانونی منتقلی میں ملوث 4 جہازوں کو بدھ کے روز بیک وقت نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے بعد کارروائی کی گئی۔
بیان کے مطابق مزید 3 جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے باعث انہیں نقصان پہنچا اور ان کی نقل و حرکت متاثر ہوئی۔ ایرانی حکام نے جہازوں کے پرچم، ممکنہ جانی نقصان یا دیگر تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں مدد دینے کا موجودہ طریقہ جاری رکھا تو ایران کے ردعمل کا دائرہ خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا جہازوں کو ایسے سمندری راستے سے گزرنے کی ترغیب دے رہا ہے جہاں بحری بارودی سرنگیں موجود ہیں، جس سے سمندری واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جہازوں کو نشانہ بنائے جانے یا ان کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے ایرانی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی بحری آمدورفت اور تیل کی ترسیل کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

