ویانا ( محمد عامر صدیق سے)آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جامعات کے بجٹ میں کٹوتیوں کے خلاف طلبہ اور تدریسی و انتظامی عملے نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ آسٹرین اسٹوڈنٹس یونین کو امید تھی کہ حکومت جامعات کیلئےبجٹ میں اضافہ کرے گی، تاہم وزارتِ سائنس نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔
’’جامعات کو بچاؤ‘‘ کے عنوان سے احتجاجی مظاہرہ جمعرات 22 اکتوبر 2026ء کو سہ پہر 3 بجے ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی مرکزی عمارت کے سامنے شروع ہوا۔ آسٹرین اسٹوڈنٹس یونین کے مطابق مظاہرے میں 50 ہزار افراد نے شرکت کی، جن میں ویانا کی مختلف جامعات کے طلبہ اور عملے کے علاوہ آسٹریا کی دیگر ریاستوں سے آنیوالے مظاہرین بھی شامل تھے۔
آسٹرین اسٹوڈنٹس یونین نے مظاہرے کو منظم کیا، جبکہ جامعات کی تنظیمی کانفرنس، جامعات کی سینیٹوں اور ملازمین کی ورکس کونسلوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ احتجاجی مظاہرے کو جامعات کی انتظامیہ کی جانب سے بھی حمایت حاصل تھی۔

آسٹرین اسٹوڈنٹس یونین کی سربراہ وکٹوریہ کڈرنا، جن کا تعلق گرین اینڈ آلٹرنیٹو اسٹوڈنٹس تنظیم سے ہے، نے کہا کہ مظاہرے کا مقصد حکومتی فیصلے کیخلاف مزاحمت کا اظہار کرنا اور بجٹ میں دوبارہ اضافے کی امید برقرار رکھنا ہے۔
تاہم گزشتہ ہفتے حکومتی قیادت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد وفاقی حکومت بجٹ کی مقررہ رقم کو حتمی قرار دے رہی ہے۔ وزارتِ سائنس کے مطابق بجٹ سے متعلق اعداد و شمار کو سرکاری نظام میں درج کرنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

آسٹرین اسٹوڈنٹس یونین کو خدشہ ہے کہ بجٹ میں کٹوتیوں کے نتیجے میں تعلیمی کورسز کی فراہمی متاثر ہوگی، طلبہ کو ملنے والی معاونت میں کمی آئے گی اور جامعات کے ملازمین کے کام کرنے کے حالات مزید خراب ہوں گے۔ یونین کے مطابق طلبہ ان اثرات کو پہلے ہی محسوس کر رہے ہیں۔
مثال کے طور پر ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں کتب خانے کے کھلنے کے اوقات کم کر دیے گئے ہیں، جبکہ جون کے وسط میں شنائیڈر نے نئی ملازمتوں کے لیے اشتہارات جاری کرنے پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔
احتجاج میں شریک طلبہ اور دیگر نمائندوں کے مطابق یہ مظاہرہ جامعات کے شعبے میں احتجاج کے ایک طویل سلسلے کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جیسا کہ دیگر ممالک میں بھی دیکھا گیا ہے۔ مظاہرین نے عندیہ دیا کہ اگر حکومت نے بجٹ کے معاملے پر نظرثانی نہ کی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے اور معاملہ پورے شعبے میں ہڑتال تک پہنچ سکتا ہے۔
آسٹرین اسٹوڈنٹس یونین کی قیادت کے مطابق موجودہ احتجاج آخری مظاہرہ نہیں ہوگا، جبکہ آئندہ لائحۂ عمل کا انحصار حکومتی ردعمل اور جامعات کے بجٹ سے متعلق صورتِ حال پر ہوگا۔

