چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والا ویڈیو کلپ وائرل ہوا، جس میں سات اٹھ افراد ایک نہتے شخص پر پلاسٹک کے پائپوں سے بہیمانہ تشدد کر رہے تھے۔ مظلوم کو دائرے میں گھیر کر چاروں طرف سے مارا جا رہا تھا اور تشدد کرنے والے بار بار اسے کان پکڑنے پر مجبور کر رہے تھے۔ جب وہ شدید مار پیٹ سے نڈھال ہو کر گر پڑا، تو اسے بے دردی سے زمین پر گھسیٹا گیا اور اس کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔ بظاہر یہ منظر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی پرانی دشمنی کا بدلہ لیا جا رہا ہو اور وہ شخص تنہا اپنے دشمنوں کے ہتھے چڑھ گیا ہو، کیونکہ حملہ آوروں کے طیش سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اسے نشانِ عبرت بنانا چاہتے ہیں۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر جب دردِ دل رکھنے والے شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا، تو سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ یہ واقعہ کسی ذاتی دشمنی کا شاخسانہ نہیں، بلکہ پولیس افسر کی انا کو تسکین پہنچانے اور حکامِ بالا کو خوش کرنے کی ایک گھناؤنی کوشش ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، چند روز قبل گوجرہ میں ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کھلی کچہری منعقد ہوئی تھی، جہاں مقامی صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ معمول کے مطابق کسی بھی سرکاری یا عوامی تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوتا ہے، لیکن اس تقریب کا آغاز بلا تاخیر درخواستوں کی وصولی سے کر دیا گیا۔ جب ایک متاثرہ خاتون نے کھڑے ہو کر اپنی شکایت بیان کرنا چاہی، تو متعلقہ پولیس افسر نے اسے رعب دار لہجے میں بیٹھنے کی ہدایت کی اور بعد میں سننے کا کہا۔ اس کے بعد پولیس افسر نے مبینہ طور پر صرف مخصوص اور من پسند افراد کی درخواستیں وصول کیں۔
چند درخواستیں سننے کے بعد جب موصوف جانے لگے، تو وہاں موجود صحافیوں نے احتجاجاً سوال اٹھایا کہ “اگر آپ نے ہمارے سوالات کے جوابات ہی نہیں دینے تھے تو ہمیں یہاں کیوں بلایا گیا تھا؟” اس موقع پر ایک قومی اخبار کے مقامی نمائندے، ملک کامران یوسف (المعروف امجد اسلام امجد) نے شائستہ لیکن مؤقفانہ انداز میں نشاندہی کی کہ “آپ نے تقریب کے آغاز میں تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول ﷺ کا اہتمام تک نہیں کیا اور یوں ہی کارروائی شروع کر دی!”
صاحبِ بہادر صحافیوں کی بات کو ان سنی کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئے۔ بعد ازاں صحافیوں نے پولیس افسر کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، جسے موصوف نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔
اس واقعے کے چند ہی روز بعد، جب امجد اسلام امجد فیصل آباد سے بذریعہ بس واپس گوجرہ پہنچے اور گڈاہ خانہ چوک میں بس سے نیچے اترے، تو سات اٹھ مسلح اوباشوں نے انہیں گھیر لیا۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، ان پر تشدد کا پہاڑ توڑ دیا گیا۔ غلیظ گالیوں کی بوچھاڑ کی گئی اور جب کچھ راہگیروں نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی، تو حملہ آوروں نے انہیں بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر دور دھکیل دیا۔
اس داستانِ مظلومیت کا سب سے المناک اور دلچسپ پہلو تب سامنے آیا جب شدید زدوکوب کرنے کے بعد، ایس ایچ او سٹی پولیس اسٹیشن (وسیم سہو) نے الٹا مضروب صحافی کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس نے من گھڑت کہانی گھڑی کہ “محمد سیف اللہ ولد محمد شہباز چوک سے گزر رہا تھا کہ امجد اسلام امجد نے اسے موٹر سائیکل دے ماری، جس پر جھگڑا ہوا اور امجد اسلام امجد اور اس کے ساتھیوں نے اس کی جیب سے 2500 روپے اور کلائی پر بندھی گھڑی چھین لی۔”
اسی جھوٹے پرچے کی پاداش میں زخمی صحافی کو فوراً گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا۔ اسے بروقت طبی امداد دی گئی اور نہ ہی قانون کے مطابق اس کا شفاف میڈیکل چیک اپ کروایا گیا۔ اب جب شہری تنظیموں اور صحافتی برادری کی جانب سے اس کھلے ظلم کے خلاف آواز بلند کی گئی، تو پولیس نے جلدی میں اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا اور معاملے کو دبانے کے لیے کراس ورشن (متبادل موقف) کا سہارا لے لیا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی قانون کی حکمرانی ہے؟ اتنی اندھیر نگری کیوں ہے؟ ویڈیو ثبوت چیخ چیخ کر اصل حقیقت بیان کر رہے ہیں، لیکن اربابِ اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ “کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، لیکن ظلم و ناانصافی کا نظام کبھی نہیں چل سکتا۔”
کہاں گیا حکومت کا وہ چمکتا دمکتا “صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کا قانون (Journalists and Media Professionals Protection Act)”؟ جس پر حکومت نے بلند و بانگ دعوے کیے تھے کہ صحافیوں کو مکمل اور مستقل تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے؟ کیا یہ قانون صرف فائلوں کی زینت بننے کے لیے بنایا گیا تھا؟
خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ، وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری صاحبہ، اور آئی جی پنجاب پولیس اس ظالمانہ واقعہ کا فوری نوٹس لیں۔ مقامی پولیس خود مدعی اور خود ہی منصف بنی ہوئی ہے، اس لیے اس کیس کی تفتیش فوری طور پر مقامی پولیس سے واپس لے کر ایف آئی اے (FIA) یا لاہور کے کسی انتہائی ایماندار اور غیر جانبدار پولیس افسر کے سپرد کی جائے، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
ساتھ ہی صحافتی تنظیموں (پریس کلبز اور یونین آف جرنلسٹس) کو بھی اسے صرف گوجرہ کے ایک مقامی نمائندے کا انفرادی معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کر دینا چاہیے اگر آج ایک صحافی کو سچ بولنے اور سوال اٹھانے پر یوں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، تو کل کوئی بھی قلم کار محفوظ نہیں رہے گا۔ اس واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کروا کر مظلوم کو انصاف فراہم کیا جائے اور ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

