اٹھارہ فیصد کرپٹ یا مجبور بیوروکریسی؟

گزشتہ دنوں پشاور سے بیوروکریسی کے حوالے سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ، جس نے ریاستی رٹ اور امن و امان کے حوالے سے انتہائی اہم سوال اٹھا دیا ہے،پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ 21 کے سینئر افسر اکرام اللہ خان کے پانچ اور سات سالہ، دو کم سن بچوں کو مبینہ طور پر ان کی رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن (پاسا) کے نومنتخب صدر بابر حیات تارڑ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے بچوں کی فوری ، بحفاظت بازیابی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے،انہوں نے ملک بھر میں موجود پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھنے والے کی طرف سے ایک پریس ریلیز بھی جاری کی ہے ،جس کا متن یہ ہے۔،،پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن (پاسا)، سینئر افسر اکرام اللہ خان کے ساتھ حال ہی میں پیش آنے والے سنگین واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے، جس میں ان کی پشاور میں واقع رہائش گاہ میں مسلح افراد زبردستی داخل ہوئے اور ان کے دو چھوٹے (5 اور 7 سال کی عمر کے ) بچوں کو اغوا کرکے لے گئے، یہ ایک انتہائی پریشان کن اور تشویشناک معاملہ ہے جو سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی جان ، مال اور وقار کے تحفظ کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے،سول سرونٹس ریاست کی جانب سے تفویض کیے گئےعوامی اہمیت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور حکومت ِ وقت کی پالیسیوں اور ترجیحات پر عملدرآمد کراتے ہیں ، اُن کی اِن فرائض کو احسن طریقے سے ادا کرنے کی صلاحیت بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو ہر قسم کے خطرے، خوف و ہراس اور مجرمانہ اقدامات سے تحفظ حاصل ہو اور اس تحفظ کو یقینی بنانا بنیادی ریاستی ذمہ داری ہے، پاسا متعلقہ حکام پر زور دیتی ہے کہ وہ بچوں کی فوری اور باحفاظت بازیابی کے لئے تمام ممکن اقدامات اٹھائیں، نیز معاملے کی جامع اور تیز رفتار تحقیقات کو یقینی بنا کر ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں، ایسوسی ایشن اربابِ اختیار پر بھی زور دیتی ہے کہ وہ سول سرونٹس کے لئے کیے گئے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لے کرانہیں مزید بہتر بنائیں تاکہ ملک کے کسی بھی حصے میں ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں، پاسا اس انتہائی تکلیف دہ گھڑی میں اکرام اللہ خان اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور بچوںکی باحفاظت اور جلد بازیابی کے لیے دعا گو ہے،،۔

اگر تفصیلات اسی طرح درست ہیں جس طرح بیان کی جا رہی ہیں تو یہ محض ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر ایک سنجیدہ سوال ہے، ایک ایسے افسر کے گھر میں مسلح افراد کا داخل ہونا اور کم سن بچوں کو لے جانا، جو خود اہم سرکاری ذمہ داریاں ادا کر چکا ہو، اس صوبے میں کچھ عرصہ پہلے تک امن و امان قائم کرنے والے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری رہا ہو تو یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے تشویش پیدا کرتا ہے، جب ریاستی مشینری کا اہم حصہ رہنے والے افسر کے بچے بھی عدم تحفظ کا شکار ہوں تو عام شہریوں کے خدشات کو نظرانداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟

ریاست کی اصل طاقت کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب شہریوں کی جان و مال کا تحفظ بھی ایک سوالیہ نشان بن جائے، چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے سرکاری اثاثوں کی واگزاری اور ادارہ جاتی کرپشن کے خاتمے کو اپنی ترجیحات قرار دیا ہے، لیکن اسی موقع پر کرپشن سے متعلق ان کے بیان کردہ اعداد و شمار بھی توجہ طلب ہیں، ان کے مطابق کرپشن کے معاملات میں نجی کاروباری افراد کا تناسب 60 فیصد سے زیادہ، بیورو کریسی کا 18 فیصد، بینک ڈیفالٹرز کا 8 فیصد اور سیاست دانوں کا تقریباً ساڑھے چار فیصد ہے، یہ اعداد و شمار یقیناً احتساب کی ضرورت کو نمایاں کرتے ہیں، لیکن ان کی درست تشریح بھی ضروری ہے، یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ تناسب شکایات، زیرِ تفتیش مقدمات یا کسی دوسری درجہ بندی پر مبنی ہے، اسی طرح بیوروکریسی میں اٹھارہ فیصد کرپشن کو دوسرے نمبر پر قرار دیے جانے کے باوجود اسے تمام بیوروکریٹس میں کرپٹ افراد کی شرح قرار نہیں دیا جا سکتا، چئیر مین نیب کو یہ بھی واضع کرنا چاہیے ہے کہ اگر عوام کو پٹواری سے لے کر اعلیٰ انتظامی افسر تک، مختلف سطحوں پر رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال، ناجائز سفارش اور کام نکلوانے کے لیے مبینہ ادائیگیوں کی شکایات رہتی ہیں تو اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل آخر کب ، کیسے اور کون نکالے گا؟

پاکستان میں بیوروکریسی کو ریاستی انتظام کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے، پالیسیوں پر عمل درآمد، سرکاری وسائل کا انتظام، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، زمینوں کا ریکارڈ، ٹیکس وصولی اور عوامی خدمات کی فراہمی اسی مشینری کے ذریعے ہوتی ہے اور اس پر ہر الزام درست نہیں ہوتا اور ہر افسر کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا بھی ناانصافی ہے، لیکن شکایات کی موجودگی اس امر کا تقاضا ضرور کرتی ہے کہ نگرانی، شفافیت اور احتساب کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔چیئرمین نیب کے بیان میں بیوروکریسی کا 18 فیصد کرپشن تناسب اس بحث کو مزید اہم بناتا ہے، اگر یہ شرح نیب کو موصول ہونے والی شکایات یا اس کے زیرِ کارروائی معاملات سے متعلق ہے تو ادارے کو اس کی تفصیل، مدت اور طریقۂ شمار واضح کرنا چاہیے، عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ کتنے معاملات کی تحقیقات ہوئیں، کتنے الزامات ثابت ہوئے، کتنے افراد کو سزا ملی اور کتنی رقم حقیقتاً واپس قومی خزانے میں آئی،کرپشن کے خلاف اصل کامیابی افسران کی گرفتاریوں کی تعداد نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں رشوت لینے، ناجائز فائدہ پہنچانے اور سرکاری وسائل ہڑپ کرنے کے مواقع کم سے کم رہ جائیں، ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ احتساب ماضی کی طرح سیاسی انتقام یا افسران پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہ بنے،الزام کی منصفانہ تحقیقات، ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ اور اپیل کا حق ہر شخص کو حاصل ہونا چاہیے، دیانت دار افسر کی حوصلہ افزائی اور بدعنوان افسر کا بلاامتیاز احتساب، دونوں ایک ہی اصلاحاتی نظام کے حصے ہونے چاہییں،مجھے تو ہماری موجودہ بیوروکریسی مجبور اور محکور نظر آ رہی ہے،اکرام اللہ خان کے بچوں کے اغوا کی ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی یا وہ کسی خوف سے اس ایشو کو ہائی لائٹ ہی نہیں ہونے دے رہے؟

اکرام اللہ خان کے بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے کے پی میں پی ٹی آئی حکومت سے مبینہ قربت اور کرپشن کے الزامات کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے، تاوان کے لیے کروڑوں روپے مانگے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے، سیاسی وابستگی یا کسی مالی الزام کی بنیاد پر اغوا کے محرکات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا،اگر ان کے خلاف کرپشن کے شواہد ہیں تو قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہییں، لیکن کسی افسر کے خلاف الزام اس کے بچوں کو نقصان پہنچانے یا خاندان کو دھمکانے کا جواز نہیں بن سکتا، کسی بھی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے شواہد کا انتظار کرنا چاہیے، لیکن تحقیقات میں تاخیر بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس واقعہ سے پاکستان بھر میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سینکڑوں افسر پریشانی کا شکار ہیں۔