برطانیہ: بسوں میں شور پر 100، ٹرینوں میں ایک ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ

لندن (خبر ایجنسیاں)برطانوی حکومت نے عوامی ٹرانسپورٹ میں شور شرابے اور مسافروں کیلئےپریشانی کا باعث بننے والے رویوں کیخلاف نئے اقدامات کا اعلان کردیا ہے۔ بسوں میں موبائل فون پر اونچی آواز میں موسیقی یا ویڈیوز چلانے، کچرا پھینکنے، برقی سگریٹ استعمال کرنے اور دھمکی آمیز رویے پر 100 پاؤنڈ تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔

برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے 19 اکتوبر کو جاری کردہ نئی ہدایات کے تحت انگلینڈ کے مقامی ٹرانسپورٹ اداروں کو بسوں میں ایسے رویوں کی روک تھام کیلئے قواعد بنانے اور ان پر عمل درآمد کرانے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ تاہم جرمانے عائد کرنے سے متعلق مقامی قواعد کو نافذ کرنے سے پہلے متعلقہ حکومتی منظوری درکار ہوگی۔

حکومت نے ٹرینوں میں بھی بغیر ہیڈفون موسیقی یا ویڈیوز چلانے والوں کی حوصلہ شکنی کیلئےملک گیر مہم شروع کی ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ دوسروں کے سکون کا خیال رکھتے ہوئے ہیڈفون استعمال کریں۔ ریلوے عملے کی ہدایت کے باوجود خلاف ورزی جاری رکھنے والے مسافروں کو اگلے اسٹیشن پر ٹرین سے اتارا جاسکتا ہے یا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے، جس میں ایک ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ شامل ہے۔

حکام کے مطابق بسوں میں قواعد پر عمل درآمد کی ذمہ داری ڈرائیوروں کے بجائے مجاز ٹرانسپورٹ حفاظتی اہلکاروں اور پولیس پر ہوگی۔ کارروائی سے پہلے خلاف ورزی کرنے والے شخص کو سمجھانے اور قواعد سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم ہدایات نظرانداز کرنے پر جرمانہ یا دیگر قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عوامی ٹرانسپورٹ میں مسافروں کے آرام، تحفظ اور سکون کو یقینی بنانا اور ایسے رویوں کی روک تھام کرنا ہے جن سے دوسرے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔