البرٹا میں علیحدگی کی تحریک کو دھچکا، ڈینیئل اسمتھ کا دوسرے ریفرنڈم سے انکار

البرٹا (سی بی سی، رائٹرز) کینیڈا کے صوبے البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے علیحدگی کے معاملے پر ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کا احترام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے دورِ حکومت میں صوبے کی علیحدگی کے لیے دوسرا ریفرنڈم نہیں کرائیں گی، تاہم وفاقی حکومت کے مقابلے میں البرٹا کے حقوق، اختیارات اور معاشی مفادات کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

سی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 19 اکتوبر کو ہونے والے ریفرنڈم میں تقریباً 76 فیصد ووٹروں نے البرٹا کے کینیڈا کا حصہ برقرار رہنے کی حمایت کی، جبکہ تقریباً 24 فیصد نے علیحدگی کے معاملے پر حتمی ریفرنڈم کی قانونی کارروائی شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس ریفرنڈم میں صوبے کی فوری علیحدگی کا فیصلہ نہیں ہونا تھا بلکہ عوام سے پوچھا گیا تھا کہ آیا حکومت کو مستقبل میں علیحدگی پر حتمی ریفرنڈم کرانے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔

وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے نتائج کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ وہ البرٹا کے عوام کے فیصلے کا احترام کریں گی، تاہم صوبے کے حقوق اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں ترک نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت البرٹا کے عوام کے مفادات کے تحفظ اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے اپنے اختیار میں موجود تمام قانونی اور سیاسی ذرائع استعمال کرے گی۔

ڈینیئل اسمتھ کے مطابق اگر وفاقی حکومت اوٹاوا کی جانب سے صوبے کے حقوق اور اختیارات میں مداخلت کی گئی تو ان کی حکومت بھرپور ردعمل دے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ اختلافات کا حل کینیڈا کے سیاسی اور قانونی اداروں کے اندر تلاش کیا جائے گا، نہ کہ ملک سے علیحدگی کا راستہ اختیار کرکے۔

وزیرِاعلیٰ نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اب انہیں پہلے کی طرح اس بات کا یقین نہیں رہا کہ وفاقی حکومت البرٹا کے بڑے معاشی شعبوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہی ہے۔ وہ اس سے قبل سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت پر صوبے کے اہم معاشی شعبوں، خصوصاً توانائی کی صنعت، کے خلاف اقدامات کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔

البرٹا میں علیحدگی کی تحریک کے حامیوں کا مؤقف رہا ہے کہ صوبے کے قدرتی وسائل اور توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کے باوجود وفاقی پالیسیوں کے باعث اسے اپنے معاشی مفادات اور صوبائی اختیارات کے تحفظ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامیوں نے خبردار کیا ہے کہ علیحدگی کی کوشش معاشی غیر یقینی، آئینی تنازعات اور مقامی اقوام کے معاہداتی حقوق سے متعلق سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہے۔

ریفرنڈم کے نتائج کے بعد ڈینیئل اسمتھ کا مؤقف یہ ہے کہ البرٹا کی خودمختاری اور صوبائی اختیارات کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، لیکن یہ جدوجہد کینیڈا کے آئینی اور قانونی نظام کے اندر رہتے ہوئے کی جائے گی۔ یوں صوبے کی علیحدگی کے معاملے پر عوامی فیصلے کے بعد حکومت کی توجہ وفاقی حکومت کے ساتھ اختیارات اور معاشی مفادات سے متعلق اختلافات پر مرکوز رہے گی۔