نئی دہلی کی صدی پرانی مسجد خالی کرنے کا حکم، بے دخلی کیلئے6 روز کی مہلت

نئی دہلی (ایجنسیاں) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ریس کورس کے علاقے میں واقع 100 سال پرانی تاریخی مسجد کو 6 روز کے اندر خالی کرنے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ مسجد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب واقع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجد کو خالی کرنے کے نوٹس پر حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مسلم عبادت گاہوں کے ساتھ اب یہی معمول بنتا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر قانونی طور پر تسلیم شدہ مسجد کو بھی تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا تو دوسری مساجد کے تحفظ کی کیا ضمانت باقی رہ جاتی ہے؟

رپورٹس کے مطابق ریس کورس مسجد 1977ء سے سرکاری گزٹ میں وقف جائیداد کے طور پر درج ہے اور تاریخی ورثے میں بھی شامل ہے۔ مسجد کو نئی دہلی میونسپل کونسل کے تاریخی ورثے کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

مسجد کے امام مولانا ہارون کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے محکمہ اراضی و ترقی نے آئندہ ہفتے مسجد کو شہید کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد مسجد کے مستقبل اور اس کے قانونی تحفظ سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔