البانیہ میں حکومت مخالف مظاہروں کا آٹھواں روز، طلبہ اور پولیس میں پھر جھڑپیں

ترانہ (ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز) البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں 20 اکتوبر 2026ء کو حکومت مخالف مظاہروں کے آٹھویں مسلسل روز طلبہ اور پولیس کے درمیان دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار استعمال کی، جبکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھر، آتش بازی کا سامان اور آتش گیر مواد پھینکے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین وزیر اعظم ایڈی راما سے استعفے، تعلیمی اخراجات میں کمی، تعلیمی اداروں میں سرمایہ کاری اور بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہروں میں ہائی اسکولوں اور جامعات کے طلبہ کے ساتھ حکومت کے دیگر ناقدین بھی شامل ہوگئے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعات کی فیسیں کم کی جائیں، تعلیمی اداروں کی عمارتوں اور سہولتوں کو بہتر بنایا جائے اور نظامِ تعلیم میں بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔ احتجاج اب محض تعلیمی مسائل تک محدود نہیں رہا بلکہ حکومت کی تبدیلی اور وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے نے بھی زور پکڑ لیا ہے۔

“احتجاج کی ابتدا ساحلی منصوبے کی مخالفت سے ہوئی”
موجودہ احتجاج کی جڑیں کئی ماہ پرانی ہیں۔ ابتدا میں مظاہرین نے البانیہ کے حساس ساحلی علاقے میں ایک پُرتعیش سیاحتی منصوبے کی مخالفت کی تھی، جس کا تعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے وابستہ ایک کمپنی سے بتایا جاتا ہے۔ مظاہرین کو خدشہ ہے کہ ایسے منصوبوں سے قدرتی ماحول اور عوامی زمینوں کو نقصان پہنچے گا اور نجی مفادات کو ترجیح دی جائے گی۔

بعد ازاں بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگی تعلیم، طلبہ کی رہائش کے مسائل اور عوامی خدمات کی خراب صورت حال سے متعلق شکایات بھی احتجاج میں شامل ہوگئیں۔ وزیر اعظم ایڈی راما نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور بعض عناصر پر بدامنی کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔

“سرکاری عمارتوں اور بینکوں کو نقصان”
رائٹرز کے مطابق 14 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کے دوران تعلیمی امور کی وزارت کی عمارت میں آگ لگائی گئی جبکہ دو بینک شاخوں کو بھی نقصان پہنچا۔ مظاہرین نے دکانوں کے شیشے توڑے اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار استعمال کی۔

18 اکتوبر تک پولیس کی جانب سے سینکڑوں افراد کے خلاف کارروائی کی اطلاعات سامنے آچکی تھیں۔ حکام نے پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاع دی تھی۔

“وزیر اعظم کا استعفے سے انکار، حکومت کا مذاکرات کی پیشکش”
وزیر اعظم ایڈی راما نے مظاہرین کے استعفے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران تشدد کو ملک کے مستقبل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ حکومت نے مظاہرین سے مذاکرات کی پیشکش بھی کی، تاہم احتجاج کرنے والے بعض گروہوں نے حکومتی دعوت قبول نہیں کی اور وزیر اعظم کے استعفے پر اصرار جاری رکھا۔

موجودہ صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ البانیہ میں طلبہ کی شکایات ایک وسیع سیاسی تحریک میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ تاہم مظاہرین کی قیادت اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے طریقۂ کار پر واضح اتفاق نہ ہونے کے باعث بحران کے فوری حل کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ 20 اکتوبر کی تازہ رپورٹوں کے مطابق ترانہ میں احتجاج اور پولیس کی کارروائیاں جاری تھیں۔