میلان میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پُرتشدد تصادم میں تبدیل، 500 فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

میلان (خبر ایجنسیاں) اٹلی کے شہر میلان میں بڑھتے اخراجات، مہنگائی اور عوامی سہولتوں کی خراب صورت حال کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی، دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد حکومت نے سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے 20 اکتوبر کو مظاہروں کے دوران تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات کی منظوری دی، جبکہ میلان میں پولیس کی مدد کے لیے 500 فوجی تعینات کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

احتجاج کا آغاز ہفتے 17 اکتوبر کو ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات کے خلاف پُرامن مارچ کیا، تاہم بعد میں بعض افراد نے پولیس سے جھڑپیں کیں، دکانوں کے شیشے توڑے، سامان لوٹا اور رکاوٹیں کھڑی کرکے آگ لگا دی۔ صورت حال قابو میں لانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار استعمال کی۔ میلان کے مرکزی علاقے میں واقع مشہور ڈوئومو چوک اور تجارتی مرکز کو بھی خالی کرانا پڑا۔

اطالوی خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں 14 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 271 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا، جن میں 220 کم عمر افراد اور 60 غیر ملکی شہری شامل تھے۔ ان میں سے 32 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 23 نابالغ تھے۔ حکام نے لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف مزاحمت کے الزامات میں کارروائی شروع کردی ہے۔

“حکومت کا سخت قانونی کارروائی کا اعلان”
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اطالوی حکومت نے مظاہروں کے دوران تشدد میں حصہ لینے کو جرم قرار دینے اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے لیے سخت سزاؤں کی منظوری دی ہے۔ نئے اقدامات کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے گروہ میں شامل ہوکر عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے افراد کو پانچ سال تک قید اور 20 ہزار یورو تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ اگر ملزمان چہرے چھپائیں یا ان کے اقدامات کے نتیجے میں کوئی زخمی ہو تو سزا مزید سخت ہوسکتی ہے۔ کم عمر بچوں کی توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کی صورت میں والدین کو مالی طور پر ذمہ دار ٹھہرانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔

حکومت نے 14 سے 17 سال کی عمر کے ان نوجوانوں کو بھی، جنہیں خطرناک سمجھا جائے، مخصوص حالات میں روکنے اور حراست میں لینے کے لیے پولیس کے اختیارات بڑھائے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ میلان میں 500 فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جو پولیس کی مدد کریں گے اور اہم مقامات پر امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت کریں گے۔

“گرفتار نوجوانوں کے خلاف عدالتی کارروائی”
میلان میں ہفتے کو گرفتار کیے گئے پانچ بالغ ملزمان کے مقدمے میں ابتدائی عدالتی کارروائی بھی سامنے آئی ہے۔ اطالوی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت نے چار ملزمان کو جیل میں رکھنے جبکہ پانچویں کو برقی نگرانی کے کڑے کے ساتھ گھر میں نظر بند کرنے کا حکم دیا۔ ان پر توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف سنگین مزاحمت کے الزامات ہیں۔

میلان کے میئر جوزیپے سالا نے احتجاج کے بنیادی اسباب کو قابلِ فہم قرار دیا، تاہم پولیس پر حملوں اور شہر کی املاک کو نقصان پہنچانے کی مذمت کی۔ وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی واضح کیا کہ پُرامن احتجاج شہریوں کا حق ہے، لیکن تشدد، لوٹ مار اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کو احتجاج کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

حکام کو خدشہ ہے کہ سماجی ذرائع ابلاغ پر مزید مظاہروں کی اپیلوں کے باعث آنے والے دنوں میں دوبارہ بدامنی پھیل سکتی ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر شہر کے کاروباری مراکز اور دکانوں کی سکیورٹی بڑھانے پر غور کیا جارہا ہے۔ کاروباری تنظیم کے اندازے کے مطابق لوٹ مار اور ہنگامہ آرائی سے ہونے والے نقصانات تقریباً 10 لاکھ یورو تک پہنچ چکے ہیں۔

“پس منظر: مہنگائی اور شہری سہولتوں پر بڑھتا دباؤ”
میلان میں ہونے والے احتجاج کا تعلق بڑھتے اخراجات، مہنگائی اور عوامی سہولتوں سے متعلق شکایات سے ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یورپ کے دوسرے شہروں میں بھی رہائش کے بحران، توانائی کی قیمتوں اور روزمرہ اخراجات کے خلاف مظاہرے سامنے آئے ہیں۔ تاہم میلان میں پُرامن احتجاج کے بعد ہونے والی لوٹ مار اور تشدد نے معاملے کو محض معاشی شکایات سے آگے بڑھا کر امن و امان اور حکومت کی جانب سے سخت قانونی اقدامات کے سوال تک پہنچا دیا ہے۔