ایران سے ایل پی جی کی ترسیل کل سے، قیمت 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) ایران سے مائع پٹرولیم گیس کی سپلائی 23 اکتوبر سے بحال ہونے کی توقع ہے، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کی قلت کے باعث اس کی قیمت 600 روپے فی کلو تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایرانی سرحد پر 16 اکتوبر سے کھڑے گیس بردار ٹینکروں کو پاکستان لانے کی اجازت دے دی گئی ہے، جس کے بعدکل سے سپلائی شروع ہونے کی توقع ہے۔ ایران سے رسد میں تعطل کے باعث ملک میں گیس کی دستیابی متاثر ہوئی اور صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑ رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پہاڑی علاقوں کے علاوہ ہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اس کی فروخت 600 روپے فی کلو تک رپورٹ ہوئی جبکہ بعض علاقوں میں گھریلو سلنڈر کی قیمت بھی مقررہ نرخ سے کہیں زیادہ وصول کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے اکتوبر کیلئے ایل پی جی کی سرکاری مقررہ قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی تھی، جبکہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 3296 روپے 23 پیسے بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں 600 روپے فی کلو کے حساب سے اتنی ہی گیس کی قیمت 7080 روپے بنتی ہے۔ صارفین کاکہناہے گیس کی کمی ہویاناہوگیس کبھی بھی سرکاری ریٹ‌پر نہیں‌ملتی.

قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے ان گھرانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے جہاں کھانا پکانے کیلئے پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی ناکافی ہے۔ ایل پی جی کی طلب میں بھی سردیوں کے آغاز کے ساتھ اضافے کا امکان ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے سرحد پر رکے ہوئے ٹینکروں کی آمد اور سپلائی کی بحالی کی توقع کے باوجود یہ واضح نہیں کہ اس سے بازار میں قیمتیں کب اور کتنی کم ہوں گی۔