مسی ساگا کے عبدالرحمٰن البہنساوی کو امریکی جیل میں دو اہلکاروں پر حملے پر مزید 50 سال قید

ٹورنٹو (سی بی سی نیوز) کینیڈا کے شہر مسی ساگا سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ عبدالرحمٰن البہنساوی کو امریکی وفاقی جیل میں دو اہلکاروں پر حملے کے جرم میں مزید 50 سال قید کی سزا سنا دی گئی، جس کے بعد ان کی مجموعی سزا 90 سال ہوگئی۔ وہ دہشت گردی سے متعلق الزامات میں 40 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق عبدالرحمٰن البہنساوی نے گزشتہ سال نومبر میں متعدد الزامات کا اعتراف کیا تھا، جن میں حملہ، قتل کی نیت سے حملہ، جیل میں ممنوعہ ہتھیار رکھنے اور شدت پسند تنظیم داعش کو مادی معاونت فراہم کرنے کے الزامات شامل تھے۔

استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ 2020 میں پنسلوانیا کی ایک وفاقی جیل میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق ہے، جہاں عبدالرحمٰن نے اپنی کوٹھڑی میں موجود اسٹیل کی میز کے ایک حصے سے تیار کردہ ہتھیار کے ذریعے دو اہلکاروں پر حملہ کیا۔ ایک اہلکار کے سر اور چہرے پر وار کیے گئے، جبکہ مداخلت کرنے والے دوسرے اہلکار کے ہاتھ پر زخم آئے۔ حملے میں پہلے اہلکار کی دائیں آنکھ ضائع ہوگئی۔

امریکی حکام کے مطابق عبدالرحمٰن کو قابو کرنے کے بعد اس کے موزے سے ایک تحریر برآمد ہوئی، جس میں حملے کو داعش کی جانب سے دہشت گرد کارروائی قرار دیا گیا تھا۔ اس کی کوٹھڑی سے بھی دولتِ اسلامیہ عراق و شام سے وفاداری کے اظہار پر مبنی تحریر ملی۔

امریکی محکمہ انصاف کے قومی سلامتی کے شعبے کے معاون اٹارنی جنرل جان اے آئزنبرگ نے کہا کہ اس سزا سے یہ یقینی بنانے میں مزید مدد ملے گی کہ عبدالرحمٰن طویل عرصے تک جیل میں رہے، جہاں وہ دوسروں کو بہت کم نقصان پہنچا سکے گا۔

عبدالرحمٰن نے 2020 کے واقعے پر سزا کے تعین کیلئے عدالت میں جمع کرائے گئے خط میں گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ 15 اکتوبر کو تحریر کیے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ ذہنی طور پر بہتر حالت میں ہوتے اور واضح طور پر سوچنے کے قابل ہوتے تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ کئی برس سے ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں اور تنہائی میں قید کے دوران مناسب ادویات اور علاج نہ ملنے سے انہیں مشکلات کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق ادویات ملنے پر وہ زیادہ پُرسکون رہتے ہیں اور بہتر انداز میں سوچ سکتے ہیں۔ انہوں نے علاج جاری رکھنے اور مستقبل میں کسی کو نقصان نہ پہنچانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

عبدالرحمٰن کے والدین خدیجہ متولی اور اسامہ البہنساوی نے سی بی سی نیوز کو بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد وہ ایک ہفتے تک سو نہیں سکے۔ والد نے کہا کہ ان کا خاندان کسی بھی قسم کے تشدد کی حمایت نہیں کرتا، جبکہ والدہ نے کہا کہ وہ زخمی جیل اہلکار اور اپنے بیٹے، دونوں کیلئے روئی تھیں۔

خاندان تقریباً ایک دہائی سے عبدالرحمٰن کو کینیڈا منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ والدین کے مطابق امریکی جیل میں ان کے بیٹے کو مناسب نفسیاتی علاج اور مطلوبہ ادویات نہیں مل رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2020 کے واقعے سے پہلے بھی انہوں نے جیل حکام کو متعدد ای میلز بھیج کر مناسب ادویات اور نفسیاتی نگہداشت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔

عبدالرحمٰن کو 2018 میں دہشت گردی کے الزامات کا اعتراف کرنے کے بعد امریکی وفاقی جیل میں 40 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ اس وقت 18 سال کے تھے۔

مقدمے کے مطابق 2016 میں نیویارک شہر اور اس کے گردونواح میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس میں شہر کے زیرِ زمین ریلوے نظام میں مختلف مقامات پر بم دھماکے اور ٹائمز اسکوائر میں گاڑی میں نصب بم کے ذریعے حملہ کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ تاہم ان منصوبوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

عدالتی دستاویزات میں استغاثہ اور دفاع، دونوں جانب سے عبدالرحمٰن کے ذہنی صحت اور نشے کی لت سے متعلق مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔ ان کے والدین نے 2021 میں بتایا تھا کہ گرفتاری سے پہلے انہیں شدید نوعیت کے دو قطبی عارضے اور نشے کی لت کے مسائل کی تشخیص ہوئی تھی اور انہوں نے ادویات لینا چھوڑ دی تھیں۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق انہیں انٹرنیٹ کے ذریعے شدت پسندی کی طرف مائل کیا گیا تھا۔

2018 میں سزا سناتے ہوئے نیویارک کے وفاقی جج رچرڈ ایم برمن نے سفارش کی تھی کہ عبدالرحمٰن کو ایسی جیل میں رکھا جائے جہاں ذہنی صحت کی سہولتیں بہتر ہوں اور جو اونٹاریو میں ان کے خاندان کے قریب ہو۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عدالت انہیں معاہدے کے تحت کینیڈا منتقل کرنے کی مخالفت نہیں کرتی۔

عبدالرحمٰن اس وقت کولوراڈو کی انتہائی سخت سیکیورٹی والی اے ڈی ایکس فلورنس جیل میں قید ہیں، جہاں امریکہ کے خطرناک ترین قیدیوں کو رکھا جاتا ہے اور تنہائی میں قید کے سخت انتظامات موجود ہیں۔

ان کی والدہ نے بتایا کہ انہوں نے ستمبر میں بیٹے سے آخری ملاقات کی تھی۔ ان کے مطابق بیٹے کو تنہائی میں دیکھنا انتہائی تکلیف دہ تھا، کیونکہ وہ وہاں مکمل ذہنی صحت کی نگہداشت حاصل نہیں کر پا رہا۔

خاندان اس وقت کینیڈا کی شاہی وفاقی پولیس اور وفاقی محکمۂ استغاثہ کے ڈائریکٹر سے متعلق قانونی کارروائی میں مصروف ہے تاکہ عبدالرحمٰن کی کینیڈا منتقلی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

امریکی عدالت میں عبدالرحمٰن کی نمائندگی کرنے والے نیویارک کے وکیل اینڈریو فریش نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی نظامِ انصاف نے بنیادی طور پر ان کے موکل کو ذہنی اختلال کے دوروں کی بنیاد پر سزا دی ہے۔ ان کے مطابق مقدمے کے تمام حالات کو سامنے رکھا جائے تو یہ معاملہ ذہنی بیماری سے متعلق بین الاقوامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور غیر انسانی ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمۂ انصاف کے ترجمان وین ہورن بکل نے کہا کہ عبدالرحمٰن نے اعترافِ جرم کے ذریعے تسلیم کیا کہ انہوں نے داعش کے نام پر دہشت گرد حملے میں دو جیل اہلکاروں کو جان بوجھ کر قتل کرنے کی کوشش کی۔ ترجمان کے مطابق ان کے خلاف مضبوط شواہد کی بنیاد پر مقدمہ چلا اور وفاقی جج نے سزا سنائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اضافی 50 سال قید کی سزا دینے سے پہلے عدالت نے دفاع کے دلائل کا جائزہ لیا تھا۔

کینیڈا کی اصلاحی خدمات کے ادارے نے تحریری بیان میں کہا کہ وہ انفرادی مقدمات پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم قیدیوں کی بین الاقوامی منتقلی کی تمام درخواستوں کا احتیاط سے جائزہ لیا جاتا ہے۔