روسی حملوں میں 20 سے زائد ہلاک، یوکرین اور ماسکو کی الگ الگ جنگ بندی تجاویز

کیف (یوکرینی حکام، روسی حکام، بین الاقوامی میڈیا)روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف علاقوں پر حملوں میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ماسکو اور کیف کی جانب سے الگ الگ یکطرفہ جنگ بندی کے اعلانات کیے گئے ہیں۔

یوکرینی حکام کے مطابق زاپوریژیا میں روسی فضائی حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے جبکہ صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اسے “سفاک دہشت گردانہ حملہ” قرار دیا۔ اس کے علاوہ کراماتورسک میں 5 اور دنیپرو میں 4 افراد مارے گئے۔دوسری جانب روسی علاقے چوواش جمہوریہ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق روس نے 8 اور 9 مئی کو یومِ فتح کی تقریبات کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کیا ہےجبکہ یوکرین نے 6 مئی سے غیر معینہ مدت کیلئےجنگ بندی کی پیشکش کی اور کہا ہے کہ وہ اسی طرز پر ردعمل دیگا۔

دونوں جانب سے اعلان کردہ جنگ بندیاں یکطرفہ ہیں اور ان کے قواعد، مدت یا نگرانی پر باہمی اتفاق نہیں ہوا۔صدر زیلنسکی نے روس سے ہتھیار ڈال کر سنجیدہ سفارتکاری کی جانب بڑھنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تقریبات کیلئے خاموشی مانگنا اور اس سے قبل حملے کرنا “انتہائی منافقت” ہے۔

ادھر یوکرین نے بھی روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں لینن گراڈ ریجن کے صنعتی علاقے اور چوواشیا میں ایک فوجی ساز و سامان بنانے والی فیکٹری شامل ہے۔روسی وزارت دفاع کے مطابق اس نے یوکرین کے میزائل اور سیکڑوں ڈرون مار گرائے، جبکہ ماسکو کے قریب بھی ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

کریملن نے سیکیورٹی خدشات کے باعث 9 مئی کی فوجی پریڈ کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہےجبکہ شہریوں کو موبائل انٹرنیٹ میں ممکنہ بندش سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ فروری 2022ء میں شروع ہونے والی جنگ میں اب تک ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔