کوئٹہ(نمائندہ خصوصی)زیارت میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا کوئٹہ میں کوئلہ پھاٹک کے قریب دھرنا بدستور جاری ہے۔ مظاہرین نے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی یقین دہانی کے بعد ہنہ اوڑک واقعے کے خلاف ایئرپورٹ روڈ پر جاری دھرنا ختم کر دیا گیا، جس کے بعد ٹریفک بحال ہو گئی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اگر حکومت سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی موجودگی میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور بطور وزیراعلیٰ وہ کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔
سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ شہداء کے ورثاء کو مالی امداد، سرکاری ملازمت اور ان کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو بدنام کرنے کی سازش کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
ادھر ہنہ اوڑک حملے میں جاں بحق افراد کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی، جبکہ اغوا کیے گئے 11 افراد کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔واضح رہے کہ 5 جولائی کو ہنہ اوڑک میں دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 11 افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

