مقبوضہ بیت المقدس (الجزیرہ، اقوام متحدہ) سابق اسرائیلی جرنیلوں اور اعلیٰ سکیورٹی حکام نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی ادارے اس تشدد کی روک تھام میں ناکام یا بعض صورتوں میں اس کی پشت پناہی کررہے ہیں۔
سابق اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اصل خطرہ ایران یا غزہ نہیں بلکہ مسلح آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیاں ہیں، جو اسرائیل کے جمہوری نظام اور مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
ان کے مطابق آبادکار فلسطینیوں کے گھروں، مساجد اور دیہات کو نذرِ آتش کررہے ہیں، جبکہ فلسطینی خاندانوں کو ان کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ بعض سابق جرنیلوں نے ان کارروائیوں کو ’’نسلی صفائی‘‘ اور ’’یہودی دہشت گردی‘‘ تک قرار دیا ہے۔
رواں سال مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2026 میں اب تک آبادکاروں کے حملوں کے باعث سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ اگست تک اسرائیلی فورسز یا آبادکاروں کے ہاتھوں 76 فلسطینیوں کے مارے جانے کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی کہا ہے کہ آبادکاروں کے حملے اکثر اسرائیلی ریاست کی مالی، مادی اور قانونی حمایت کے ماحول میں جاری ہیں اور کئی مواقع پر یہ حملے اسرائیلی فوج کی موجودگی میں ہوئے۔
سابق اسرائیلی حکام کی یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد، فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی بستیوں کی توسیع پر عالمی سطح پر بھی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔

