سسکیچیوان کے 2 ریسٹورنٹ مالکان بنگلہ دیشی خاتون کی انسانی اسمگلنگ کے جرم میں قصوروار قرار

سسکیچیوان(کینیڈین میڈیا) کینیڈا کے صوبے سسکیچیوان میں 2 ریسٹورنٹ مالکان کو بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی خاتون کو مبینہ طور پر استحصال کا نشانہ بنانے اور انسانی اسمگلنگ کے جرم میں قصوروار قرار دے دیا گیا۔

سسکیچیوان کے صوبائی عدالت کے جج میگوئل مارٹینیز نے جمعہ کو سسکاٹون کی عدالت میں فیصلہ سناتے ہوئے 44 سالہ محمد مسم اور 55 سالہ سہیل حیدر کو انسانی اسمگلنگ کے الزامات میں قصوروار قرار دیا، جس کے بعد دونوں کو سزا سنائے جانے تک حراست میں لے لیا گیا۔

جج کے مطابق دونوں ملزمان نے خاتون کی کمزوری اور مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مالی مفادات حاصل کیے۔ دونوں نے بطور آجر اپنے اختیار اور مرد ہونے کی حیثیت سے حاصل ثقافتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے خاتون کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا۔

جج نے کہا کہ ملزمان نے خاتون کو کینیڈا چھوڑنے کے خوف میں مبتلا رکھا اور اسے دھمکیاں دیں کہ اس کا ورک پرمٹ منسوخ یا روک دیا جائے گا یا اسے حکام کے حوالے کردیا جائے گا۔

جج کے مطابق محمد مسم نے اس سے بھی آگے بڑھ کر خاتون کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں لے لیا اور اس وقت تک واپس نہیں کیا جب تک وہ اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر رضامند نہ ہوگئی۔

محمد مسم پر جنسی زیادتی کے 3 الزامات بھی عائد کیے گئے تھے اور جج نے اسے تمام الزامات میں قصوروار قرار دیا۔ جج کے مطابق مسم نے خاتون کو 8 مختلف مواقع پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔عدالتی حکم کے تحت متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی ہے۔

دونوں ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت روز ٹاؤن کی صوبائی عدالت میں مختلف تاریخوں پر ہوئی اور 18 ماہ کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 7 ہفتے عدالت میں کارروائی جاری رہی۔جون میں مقدمے کے حتمی دلائل کیلئے اسے سسکاٹون کی عدالت منتقل کیا گیا، جس کے بعد جمعہ کو جج نے فیصلہ سنایا۔

مقدمے میں عائد الزامات کا تعلق یکم اگست 2022ء سے 31 مارچ 2023ء کے درمیان کے عرصے سے ہے۔عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق خاتون اگست 2022ء میں بنگلہ دیش سے ٹورنٹو پہنچی تھی۔ بظاہر وہ مختصر تعطیلات کیلئے کینیڈا آئی تھی تاہم جج کے مطابق اس کا اصل مقصد کینیڈا میں قیام کا راستہ تلاش کرنا تھا۔

بعدازاں اسے معلوم ہوا کہ عارضی غیر ملکی کارکن کی حیثیت سے ملازمت حاصل کرکے کینیڈا میں قیام بڑھایا جاسکتا ہے۔ ستمبر 2022ء کے آخر میں وہ سسکیچیوان پہنچی جہاں اسے گَل لیک میں سہیل حیدر کے زیر انتظام ریسٹورنٹ میں کام کرنا تھا۔

عدالت کے مطابق خاتون کے سسکیچیوان پہنچنے کے وقت حیدر کے پاس اسے ملازمت دینے کی حکومتی منظوری بھی نہیں تھی۔ معاہدے کے تحت اسے کام کے بدلے رہائش اور کھانا مفت فراہم کرنے کے ساتھ ماہانہ ایک ہزار ڈالر ادا کیے جانے تھے۔جج کے مطابق خاتون ہفتے میں 6 دن طویل اوقات کار میں کام کرتی رہی تاہم حیدر نے اسے اجرت ادا نہیں کی۔

ریسٹورنٹ میں خاتون کی ملاقات سائپرس ہلز کے رکن صوبائی اسمبلی ڈگ اسٹیل سے ہوئی، جنہوں نے اسے 2022ء کے موسم خزاں میں 3 مرتبہ کھانا پیش کرتے دیکھا اور اس کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔نومبر 2022ء میں حیدر نے خاتون کو ٹسڈیل بھیج دیا، جہاں اسے اپنے دوست محمد مسم کے زیر انتظام ریسٹورنٹ میں کام کرنا تھا۔ یہاں بھی اسے مفت رہائش اور کھانے کے ساتھ ماہانہ ایک ہزار ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا۔

جج کے مطابق مارچ 2023ء کے وسط تک خاتون روزانہ 12 گھنٹے، ہفتے میں 6 دن کام کرتی رہی اور اسے روزانہ صرف آدھے گھنٹے کا وقفہ ملتا تھا۔ ہفتہ وار چھٹی کے روز بھی مسم اسے عموماً ریسٹورنٹ کا سامان خریدنے کیلئے سسکاٹون لے جاتا تھا۔

ڈگ اسٹیل نے خاتون کی صورتحال پر تشویش برقرار رکھتے ہوئے اس وقت کے متعلقہ علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی ہیو نیرلین سے رابطہ کیا۔ نیرلین ٹسڈیل کے ریسٹورنٹ پہنچے اور خاتون کو خفیہ طور پر ایک کاغذ میں لپٹا اپنا کاروباری کارڈ دیا، جس پر سماجی کارکن سے رابطے کی معلومات بھی درج تھیں۔

خاتون نے سماجی کارکن سے رابطہ کیا جس نے بھی اس کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔بعدازاں خاتون کو ورک پرمٹ مل گیا، تاہم یہ مخصوص ریسٹورنٹ کیلئے جاری کیا گیا ’’بند ورک پرمٹ‘‘ تھا اور اسے ایلروز کے ایک مخصوص ریسٹورنٹ میں کام کرنا تھا۔

جج کے مطابق خاتون کو وہاں منتقل کیے جانے کے بعد سماجی کارکن اور ڈگ اسٹیل نے اسے اس صورتحال سے خفیہ طور پر نکالنے کا منصوبہ بنایا اور 23 مارچ 2023ء کو منصوبے پر کامیابی سے عمل کیا گیا۔جج میگوئل مارٹینیز نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں ارکان صوبائی اسمبلی اور سماجی کارکن کی گواہی کو انتہائی قابلِ اعتماد پایا۔

جج نے متاثرہ خاتون کی گواہی کو بھی قابلِ اعتماد قرار دیا۔سہیل حیدر اور محمد مسم نے اپنے دفاع میں گواہی دیتے ہوئے خاتون کے اپنے ریسٹورنٹس میں کام کرنے سے انکار کیا، جبکہ مسم نے جنسی زیادتی کے الزامات بھی مسترد کیے۔تاہم جج نے سہیل حیدر کی گواہی کو ناقابلِ یقین، بعض مواقع پر اپنے مفاد میں، مبہم اور بعض اوقات ٹال مٹول پر مبنی قرار دیا۔

محمد مسم کے بارے میں جج نے کہا کہ انہیں اس کی گواہی بھی ذرہ بھر قابلِ اعتبار نہیں لگی۔فیصلہ سنائے جانے کے بعد استغاثہ کی وکیل لیسلی ڈننگ نے دونوں ملزمان کو سزا سنائے جانے تک حراست میں لینے کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

کینیڈا میں انسانی اسمگلنگ کے جرم میں زیادہ سے زیادہ عمر قید جبکہ کم از کم 4 سال قید کی لازمی سزا ہوسکتی ہے۔عدالت نے دونوں ملزمان کو حراست میں لینے کا حکم دیا۔ دونوں آئندہ ہفتے دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گے جہاں سزا سنانے کی سماعت کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔