سعودی امریکا ایٹمی معاہدہ، اسرائیلی اپوزیشن کی شدید تنقید، اسے اسٹریٹیجک تباہی قرار دے دیا

تل ابیب (رائٹرز، اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس، اسرائیلی میڈیا) امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سویلین ایٹمی تعاون کے معاہدے پر اسرائیلی اپوزیشن نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے لیے “اسٹریٹیجک تباہی” قرار دیا ہے، جبکہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے تاحال اس معاملے پر کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔

اسرائیل کے سابق وزیر دفاع آویگڈر لیبرمین نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ سویلین ایٹمی معاہدہ بالآخر ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی راہ ہموار کر سکتا ہے اور اس سے مشرق وسطیٰ میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

اسرائیلی ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں نے سعودی عرب کے لیے وہ چیز ممکن بنا دی جو پہلے ناممکن سمجھی جاتی تھی۔ ان کے مطابق ماضی میں امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ایٹمی تعاون کو اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی سے مشروط رکھا گیا تھا، لیکن نئے معاہدے کے بعد یہ شرط ختم ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق نئے معاہدے کے بعد اسرائیل سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اہم سفارتی موقع سے محروم ہو سکتا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی امریکا سے اسی نوعیت کے ایٹمی تعاون کے معاہدوں کی کوشش کر سکتے ہیں۔