ممبئی (کلچرل ڈیسک) بھارتی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے مطالبات سنے جائیں، تاہم انہیں توقع ہے کہ اس مؤقف پر ایک بار پھر انہیں “ملک دشمن” قرار دیا جائے گا۔
دلجیت دوسانجھ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کارروائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے کیونکہ “لوگوں کی آواز، خدا کی آواز ہوتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اپنے مؤقف کی وجہ سے انہیں ملک دشمن قرار دیا جاتا رہا ہے اور اس بار بھی وہ اسی ردعمل کی توقع رکھتے ہیں۔
دلجیت دوسانجھ نے لکھا کہ کسان تحریک کے دوران بھی انہیں شدید تنقید اور قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن کے بارے میں وہ آج بھی کھل کر بات نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ “باقی سب کچھ خدا دیکھ رہا ہے، وہی بہتر کرے گا۔”
یہ احتجاج مبینہ نیٹ (NEET) امتحانی پرچہ لیک اسکینڈل کے بعد وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کیلئےجاری ہے۔مظاہرین کا مؤقف ہے کہ پرچہ لیک اسکینڈل کے باعث ہزاروں طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، جبکہ مختلف بھارتی میڈیا رپورٹس میں کم از کم 12 طلبہ کی خودکشی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

