طیارہ بردار امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن مشرقِ وسطیٰ سےتھائی لینڈروانہ

بینکاک (رائٹرز/امریکی میڈیا)امریکی بحریہ کا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن مشرقِ وسطیٰ میں 250 سے زائد روز کی طویل تعیناتی کے بعد تھائی لینڈ کی جانب روانہ ہوگیا، جہاں اسے آئندہ ہفتے بندرگاہ پر لنگر انداز کیا جائے گا۔

تھائی حکام کے مطابق تقریباً 5 ہزار امریکی بحریہ اور میرین اہلکاروں کو طویل عرصے تک سمندر میں رہنے کے بعد تھائی لینڈ میں آرام اور تفریح کا موقع فراہم کیا جائیگا۔ تھائی حکام نے کہا ہے کہ جہاز کا قیام معمول کی بندرگاہی سرگرمی، آرام اور لاجسٹک معاونت کیلئےہوگا اور اس دوران کوئی فوجی مشق نہیں کی جائیگی۔

رائٹرز کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن 21 نومبر 2025 کو سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران طویل عرصے تک تعینات رہا۔ جہاز نے 200 سے زائد مسلسل دن سمندر میں گزارے، جو جدید دور میں امریکی طیارہ بردار جہاز کیلئے طویل ترین مسلسل تعیناتیوں میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود اہلکاروں کو خوراک، پانی، ڈاک کی ترسیل اور طویل ڈیوٹی اوقات سمیت مختلف مشکلات کا سامنا رہا۔ اہلکاروں کے اہل خانہ اور بعض امریکی قانون سازوں نے عملے کی ذہنی صحت اور مجموعی حالات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

امریکی میڈیا میں جہاز پر ذہنی دباؤ اور عملے کی فلاح و بہبود سے متعلق خدشات کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں، تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور دیگر دفاعی حکام نے جہاز کے حالات سے متعلق بعض منفی رپورٹس کو مسترد کیا ہے۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن طیارہ بردار جہاز مشرقِ وسطیٰ میں پہنچ چکا ہے، جس کے بعد ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی ختم کرکے اسے واپسی کے سفر پر روانہ کیا گیا ہے۔تھائی بحریہ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جہاز کی بندرگاہ آمد کی مخصوص تاریخ اور دیگر تفصیلات ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔